ہیں جیسے انسان کے لئےپاؤں،پرندوں کےلئے پَر اورچوپایوں کے لئےٹانگیں۔ بعض اعضاء اپنے دفاع کے کام آتے ہیں جیسے انسانوں کے لئے ہاتھ پاؤں اورحیوانات کے لئےسینگ۔دفاع ومقابلہ کےسلسلےمیں چوپایوں اور پرندوں کے مُعاملات مختلف ہیں کہ بعض کے دشمن بہت زیادہ ہوتے ہیں اوران کی غذابھی دور ہوتی ہے پس یہ دشمن سے بچنے اورجلد ازجلدغذاحاصل کرنے کے محتاج ٹھہرےتو ان کے لئے پَر پیدا کئے گئے تاکہ وہ تیزی سے اڑ سکیں ۔بعض کے چار، بعض کے دو پاؤں ہوتے ہیں ،بعض رینگنےوالے ہیں ۔
اَلْغَرَض !ان سب کی تفصیل لمبی ہے۔فی الحال ہم کھانے کی نعمت سے تعلق رکھنے والےاعضاء کا ذکر کریں گے تاکہ انہیں سامنے رکھ کر دیگراعضاء کی اہمیت کااندازہ ہو جائے۔
ہاتھ کی حکمت:
انسان کا غذا کودیکھنااوراس کی طرف بڑھنااس وقت تک کافی نہیں جب تک وہ غذا حاصل نہ کرلے، لہٰذا انسان پکڑنے کی نعمت کا محتاج ہواتواللہ عَزَّ وَجَلَّ نےانعام فرماتے ہوئے اسے ہاتھ کی نعمت سے نوازا۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہاتھوں میں مناسب لمبائی رکھی ،یہ دونوں ہر طرف بآسانی پھیل سکتے ہیں اور مختلف جوڑوں کی مددسےانسان انہیں ہرجانب حرکت دے سکتاہے۔دونوں ہاتھ سیدھی لکڑی کی طرح نہیں ہوتےبلکہ مُڑنے سمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں،اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےہتھیلی پیدافرماکرہاتھ کے سِرے کو کُشادہ کیا پھر ہتھیلی کے سرے کو پانچ حصوں یعنی انگلیوں میں تقسیم کیا،انگلیوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک جانب انگوٹھا اور دوسری جانب چار انگلیاں رکھیں ۔اگر انگلیاں اکھٹی ہوتیں یا ایک دوسرے سےجُڑی ہوئی ہوتیں تو ان سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہ ہوتا پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں ایسابنایا کہ اگر ہتھیلی پھیلاکررکھی جائے تو بیلچہ کی شکل اختیارکرلے اور اگر سمیٹ لی جائے تو چُلُّوبن جائے اور اگر اکٹھی کرلی جائے توگھونسہ بن کر مارنے کا کام دے نیز اگرہتھیلی کسی چیزپر رکھ کربند کرلی تو پکڑنے کا فائدہ دے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انگلیوں کےسِروں پرناخن بھی پیدافرمائے تاکہ انگلیوں کی مکمل حفاظت ہوسکے نیزان کے ذریعے بآسانی وہ چھوٹی اورباریک اشیاءچن لی جائیں جنہیں انگلیاں نہیں اٹھاسکتیں کیونکہ چھوٹی اور باریک اشیاء ناخن کے سروں سےبآسانی پکڑ میں آجاتی ہیں۔