Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
332 - 882
کیونکہ انسان پرچاروں جانب سےدشمنوں کی یَلْغاربھی رہتی ہے۔اگر انسان  میں نقصان دہ چیزوں  کودور کرنے کے لئےغصہ نہ رکھا جاتا تو یہ  ظلم کا نشانہ بن کر رہ جاتا،دیگر حیوانات اس  کی غذابھی  چھین لیتے کیونکہ غذا کاتو ہر ایک حاجت مند ہے لہٰذا  ایک ایسے ارادے کی ضرورت  پیش آئی جو نقصان دور کرنے اور مقابلہ کرنے میں کام آئےاور یہ خاصیت  غصہ ہی میں پائی جاتی ہے۔پھرخواہش اور غصہ بھی کافی نہیں تھےکیونکہ یہ دونوں صرف وقتی طور پر  فائدہ یا نقصان کے حامل ہوتے ہیں،مستقبل کےحوالے سےکچھ کارگر نہیں ہوتے۔جس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے غصہ اورخواہش  کوموجودہ حالت سے واقف رہنے والی حس کے  تابع فرمایا ہے اسی طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ا ن کے ساتھ انسان میں ایک اور ارادہ پیدا فرمایا جو عقل کے اشاروں پر چلتا ہے۔یہ ارادہ خواہش اور غصے کوانجام سے خبردار کرتا ہےالبتہ انسان کومکمل فائدہ عقل کے ذریعے  ہی حاصل ہوتا ہےکیونکہ  اس فائدےکے لئےفقط یہ جاننا کافی نہیں کہ فلاں چیز  نقصان دہ ہے بلکہ نقصان دہ چیزسےبچنابھی ضروری ہوتا ہے۔جس طرح عقل کی وجہ سے انسان انجام کی آگاہی رکھتا ہےاسی طرح اس  ارادے کے ذریعے انسان جانوروں سے ممتاز ہوتاہے اور یہی  انسان کے لئے باعث ِ عزت واکرام ہے۔ ہم نے اس ارادے کا نام ”دینی اُمورپر اُبھارنے والی قوت “ رکھا ہے اور ” صبر کے بیان“ میں اسے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
اختیارات اور  آلاتِ حرکت  کی تخلیق میں نعمتیں :
	یادرکھئے!حِس سے فقط کسی چیزکاعلم حاصل ہوتا ہےجبکہ ارادہ  کسی چیزکوطلب کرنے یااُسے ترک کرنےپر اُبھارتا ہے اور جب تک آلہ طلب وترک نہ ہواس وقت تک ارادہ طلب کرنے اورترک کرنےکے لئے کافی نہیں ۔دیکھئے !ایک مریض ہاتھ پاؤں سے  فالج کاشکارہے،اسے کچھ کھانے پینے کی طلب محسوس ہوئی،وہ جانتا ہے کہ چیز کہاں رکھی ہے لیکن آلہ کے استعمال سے محروم ہےکیونکہ ہاتھ پاؤں تو موجود ہیں مگر کارگر نہ ہونے کے سبب  مطلوبہ چیزحاصل نہیں کر سکتا۔معلوم ہوا کہ حرکت و عمل کے لئے آلات ضروری ہیں نیزآلات کے استعمال  کرنے پرقدرت و اختیارات بھی ہوں  تاکہ خواہش کے سبب طلب  پوری کرے  اورکراہت کی وجہ سے دور رہے۔اسی حکمت  کے پیْشِ نظر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مختلف اعضاء پیدا فرمائے۔ہم فقط ظاہری اعضاء  دیکھتےہیں مگران کے اسرار پر غورنہیں کرتےمثلاً :بعض اعضاء کچھ طلب کرنےاوربچنے کے لئے