نے انسان میں کھانے کی خواہش پیدا فرمائی تاکہ خواہش اسے کھانے پر مجبور کر ے اور انسان کھاکر زندہ رہ سکے۔کھانے کی خواہش میں انسا ن کے ساتھ حیوانات بھی شریک ہیں البتہ نباتات شریک نہیں ۔ چونکہ زیادہ کھانےسے انسان ہلاک بھی ہوسکتاتھااسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سیر ہوکر کھانے کےبعد طبیعت میں کراہت پیدا فرمائی تاکہ انسان مزیدکھانے سے ہاتھ روک لےورنہ جس طرح کھیتی زیادہ پانی جذب کرلینےسےتباہ ہوجاتی ہے یہی حال انسان کابھی ہوتا لہٰذاانسان کوضرورت محسوس ہوئی کہ وہ بقدر ضرورت ہی غذااستعمال کرےکبھی پانی پی کر پیاس بجھائے اور کبھی سیراب رہ کر پانی سے دور رہے۔جس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کے اندر کھانے پینے کی خواہش پیدا فرمائی تاکہ بدن انسانی سلامت رہے اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہم بستری کی خواہش بھی پیدا کی تاکہ نَسْلِ انسانی باقی ر ہے۔
تخلیْقِ انسانی کے چند عجائبات:
اگر ہم فقط تَخْلیْقِ انسانی پر روشنی ڈالیں اور اس سے متعلق عجائبات پر گفتگوکریں تو آپ عالَمِ حیرت میں ڈوب جائیں گے مثلاً رِحم کی بناوٹ کیسے ہو ئی؟حیض کانظام کس طرح قائم ہے؟مادہ تولید اور خونِ حیض سے بچہ کس طرح بنتا ہے؟ کپورے کس طرح تخلیق پاتے ہیں ؟پیٹھ میں مادۂ تولید کس طرح ٹھہرتا ہے ؟عورت کا مادۂ تولید سینےکی رگوں سے رِحم تک کیسے پہنچتا ہے؟بچہ دانی کیسی ہوتی ہے جس میں کبھی لڑکا پرورش پاتا ہے، کبھی لڑکی؟ مادہ تولید کتنے مراحل سے گزر تاہے کہ پہلےخون کاقطرہ بنتاہےپھر خون کاقطرہ گوشت کی بوٹی بنتا ہے پھر گوشت کی بوٹی ہڈیاں بنتی ہیں پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھتاہے پھراس میں خون جاری ہوتاہےپھرسر ،ہاتھ پاؤں، پیٹ، پیٹھ اور تمام اعضاء تخلیق پاتے ہیں ۔نیزیہ سب تو ابتدائے تخلیق میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی مختلف نعمتوں کا ذکر ہے، اندازہ لگایئے!مکمل وُجود میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی کیسی کیسی نعمتیں پوشیدہ ہوں گی چونکہ ابھی ہمارا موضوع یہ نہیں اس لئے ہم فی الحال کھانےسے متعلق نعمتوں کاذکر کریں گے تاکہ کلام طویل نہ ہوجائے۔
’’غصہ‘‘ارادہ کی ایک قسم ہے :
خلاصہ یہ ہے کہ”خواہش“ انسانی ارادوں کی ایک قسم ہےلیکن یہ یادرہے کہ خواہش تنہا کافی نہیں