ظاہری حواس سے متعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّکی چند نعمتیں ہم نے مختصراً بیان کیں ،اس سے ہرگزکوئی یہ نہ سمجھ لے کہ ہم نے ہر ہرپہلو کوتفصیلاًبیان کردیا کیونکہ حواس ظاہرہ بعض ادراکات کانام ہے ۔
حسی نعمتوں کی ایک جھلک :
دیکھنے کی حس پرغورکیجئے! اس میں آنکھ آلہ ہے ،آنکھ دس مختلف طَبَقات سے مرکب ہے، بعض رُطُوبات ہیں، بعض پردے ہیں،بعض پردے مکڑی کے جالے کی طرح ہیں،بعض رِحْمِ مادَرمیں بچے پر لپٹی جھلی کی طرح ہیں،بعض رطوبات انڈے کی سفیدی کی طرح ہیں،بعض برف کی مانند ہیں۔مجموعی طور پردس طَبَقات، مختلف صِفات پر مشتمل ہیں مثلاً صورت ، شکل ، ہیئت، چوڑائی گولائی اور ترکیب ِخاص ۔ ان دس طبقات میں سےکسی ایک میں بھی خلل یا کسی بھی طبقے کی صفت میں نقص کی وجہ سے بینائی چلی جائے تو ماہریْنِ چشم اور طبیب حضرات بھی اس کے ازالے سےعاجز ہوجائیں۔
اندازہ لگائیے !جب ایک حس کاحال یہ ہے تو دیگرحواس کاعالم کیا ہوگا؟ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَ جَلَّ نے آنکھ اور اس کے طبقات میں جس قدر حکمتیں پوشیدہ رکھی ہیں وہ کئی جلدوں میں بھی بیان نہیں ہوسکتیں۔
غورکیجئے! آنکھ اپنے طبقات وصفات سمیت اخروٹ سےبھی چھوٹی ہوتی ہے،جب بدن کے اس چھوٹے جز کا یہ حال ہے توسارے بدن اور اسکے ہر ہر عضو میں پائی جانے والی نعمتوں کوکیسے بیان کیا جائے؟ہم نے محسوسات سے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کے چند اسرارو رُموز بیان کردیئے۔اسی کے ساتھ ہم اپنی گفتگوختم کرتے ہیں ۔
ارادے کی تخلیق میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتیں:
ذرا سوچئے!اگر انسان میں صرف دیکھنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی تاکہ وہ غذا کا اِدْراک کرلےمگر کھانے پر اُبھارنے والی رغبت اور خواہش پیدانہ کی جاتی تو دیکھنے کی صلاحیت بے کار ہوجاتی جیسا کہ بہت سے مریض سامنے رکھے ہوئے کھانے کوفقط رغبت نہ ہونے کی وجہ سے نہیں کھاتے گویا دیکھنے کی حس توباقی ہے مگر اس کا ادراک بے کار ہوگیا۔
انسان موافق چیز کی رغبت کے لئے خواہش اور غیرموافق چیزسے اُ کتاہٹ کے لئے کراہت جیسے ارادوں کا محتاج تھا تاکہ خواہش کے ذریعے طلب پوری کرے اورکراہت کی وجہ سے دور رہےپس اللہ عَزَّ وَجَلَّ