Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
33 - 882
شخص جس شے کا محتاج ہو گااپنی ساری زند گی اسی میں لگا دے گا،لہٰذا یہ تمام دَرَجات اس اعتبار سے واجب نہیں۔
(2)…دوسراواجب وہ ہے جو ربُّ العالمین عَزَّ  وَجَلَّ کے قُرب اور حضرات ِ صدیقین کے پسندیدہ مقام  تک پہنچنے کے لئےضروری ہے۔ اس تک رسائی پانے کے لئے ان سب کاموں سے توبہ واجب ہے جو ہم نے بیان کئے ہیں۔ (اب ان دونوں واجبوں کی مثالیں ملاحظہ کیجئے) پہلے کی مثال جیسے کہا جا تا ہے کہ”نفل نماز میں طہارت واجب ہے۔“ یعنی اس شخص پر واجب ہے جو اسے اداکرنا چاہتاہے۔ تو وہ طہار ت کے بغیر اسے ادا نہیں کرسکتا۔ مگر جوشخص نفل نماز کی فضیلت سے محروم رہتا اوراس نقصان کو برداشت کرتا ہے تو اس پر اس نما ز کے لئے طہا رت واجب نہیں۔ دوسرے کی مثال جیسے کہا جاتا ہے کہ”آنکھ،کا ن،ہا تھ اور پاؤں انسان کے وُجود میں شرط ہیں یعنی اس شخص کے لئے شر ط ہیں جو کامل انسان بننا اور اپنی انسانیت سے فائدہ اٹھاکر اس کے ذریعے دنیا میں بلندمقام تک رسائی چاہتا ہے لیکن جو شخص محض اصل حیات پر اِکتفاکرے اور  اس بات پر راضی ہو کہ وہ قَصّاب کی چٹائی پر پڑے  گوشت اور پھینکے ہوئے چتھڑے  کی مثل ہو توا یسی زند گی کے لئے آنکھ، ہاتھ اور پاؤ ں ضروری نہیں۔
	معلوم ہواکہ عوام سے متعلق فتوٰی میں داخل اصل ِواجبات سے صرف اصْلِ نجات ملتی ہے اور اصلِ نجات اصْلِ حیات کی طرح ہے اورتکمیْلِ زندگی کے لئے  اس سے اوپر جو سعادتیں ہیں وہ ان اعضاء اور آلات کی مثل ہیں جن سے زند گی کی بہاریں ہیں۔ حضراتِ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام، اولیائے عظام اور عُلَمائے اسلام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام وغیرہ اصْلِ نجات سے اوپر اِنہی سعادتوں کے لئے کوشش فرماتے ہیں،اِنہی کی چاہت کرتے ہیں، اِنہی کے اردگرد رہتے ہیں اوران سعادتوں کو پانے کے لئے ان حضرات نے دنیاوی لذتوں کو مکمل طورپر ترک کردیا حتّٰی کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس مقام تک پہنچے کہ ایک دن پتھر کو تکیہ بنا کر سو رہے تھے۔ اسی اثنا میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس شیطان آیا اور کہنے لگا:”کیا آپ نے آخرت کی خاطر دنیا چھوڑ نہیں دی تھی؟“ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:”ہاں!چھوڑدی ہےمگر ہوا کیا ہے؟“تو وہ بولا:آپ کا پتھر کو تکیہ بنانا دنیا سے فائد ہ اٹھانا ہے۔ آپ اپنا سر زمین پر کیوں نہیں رکھتے؟“اس پر حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام نے وہ پتھرپھینک دیا اور سرِاقدس زمین پر رکھ دیا۔