اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کوعقل جیسی عظیم نعمت عطافرماکرحیوانات سےممتازکردیا۔عقل تمام نعمتوں سے اشرف واعلیٰ نعمت ہے،کونسی غذا نقصان دہ ہے؟کونسی غذا فائدہ مند؟یہ عقل ہی بتاتی ہےنیزکھانا پکانے والی اشیاء کاانتخاب کرنےاوربنانےمیں عقل ہی مددگارہوتی ہے۔غذائیت کےمُعاملےمیں عقل کےفوائد پر غور کیجئے!صحت وتندرستی زندگی کی بقا کا اہم سبب ہے،عقل یہاں بھی بہترین مددگارہے اور یہ توعقل کاچھوٹا سافائدہ اورمعمولی حکمت ہے جبکہ عقل کابڑا فائدہ اوربڑی حکمت یہ ہے کہ انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اسماو صفات کےذریعےاس کی ذات واَفعال کی مَعرِفت حاصل کرے مخلوق کوپیداکرنے کی حکمت پرغورکرے۔
حواسِ انسانی کےفوائد:
حواسِ خمسہ کےمختلف فوائد ہیں۔حواسِ خمسہ گویا بادشاہ کی جانب سے ملک کے اَطراف میں مقرر کردہ مخبروں اورجاسوسوں کی طرح ہیں۔ہرایک کوالگ الگ مخصوص ذمہ داری سونپ دی جاتی ہےمثلاً کسی کو رنگوں کی خبر،کسی کو آوازوں کی خبر،کسی کو بُو کی خبر ،کسی کوذائقے کی خبراورکسی کوٹھنڈا گرم، سخت نرم ہونے کی خبر دینے پر مُتَعَیَّن کیاجاتاہے ۔
انسانی مملکت یعنی جسم کی تمام خبریں یہ جاسوس ”حِسِّ مُشْتَرَک“کے حوالے کرديتے ہیں۔جس طرح دربان سلطنت کے حالات جاسوسوں سےوصول کرکے بادشاہ تک پہنچاتے ہیں ویسے ہی دماغ کے اگلے حصے میں موجودحِسِّ مُشْتَرَک وُصُول شُدہ تمام خبریں جمع کرکےحرف بحرف بادشاہ یعنی دل تک پہنچادیتی ہے کیونکہ حِسِّ مُشْتَرَک کوصرف وصول شدہ تمام خبریں جمع کرکےحفاظت کےساتھ پہنچانےکااختیارہوتا ہے،حقائق کی پہچان حاصل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا(جیسا کہ بادشاہ کے دربانوں کو اختیار نہیں ہو تا)۔
دل کاعمل :
عقل سے معموردل پیش کردہ تمام خبروں کی اچھی طرح تحقیق کرتاہے۔ا ن ہی کی روشنی میں مملکت یعنی جسم کے اسرار ورُموز سمجھ کر اعضائےانسانی کو عمل کی ہدایت کرتا ہے ۔ اس کی تفصیل ہم یہاں بیان نہیں کریں گے۔دل موقع محل کے مطابق اپنے لشکریعنی اعضائےانسانی کو متحرک رکھتا ہے کبھی کسی کام کوکرنے کا حکم دیتا ہے،کبھی کسی کام سے رکنےکا حکم دیتا ہے، کبھی پیش آنے والی تدبیروں کو پورا کرنے کاحکم دیتا ہے۔