توانسان صحت کےمُوافِق اور مخالف غذامیں فرق نہیں کرپاتااور ہلاک ہوجاتا۔
دیکھئے!درخت کی جڑمیں پانی ڈالاجاتاہے وہ اسے جذب کرلیتی ہے،بعض او قات پانی درخت کوخشک کردیتا ہےکیونکہ درخت میں چکھنے کی حس نہیں کہ وہ بچ جائے۔
حِسِّ مشترک کی ضرورت واَہمیت :
اگرانسانی دماغ کے اگلے حصےمیںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطاکردہ ایک اَور نعمت”حِسِّ مُشْتَرَک“نہ ہوتی تو حواسِ خمسہ ناکافی تھے کیونکہ حواس خمسہ کے عمل کا دارومدار اسی پر ہوتاہےانسان کو اس کے بغیر انتہائی دشواری کا سامنا رہتا مثلاً کوئی شخص فقط دیکھنے کی حس استعمال کرے اور زرد رنگ کی چیزکھالے اوروہ چیز طبیعت کے مُوافِق نہ ہوتووہ شخص جب بھی کوئی زردچیز دیکھے گااسےنہیں کھائے گا لیکن جب دیکھنے کے ساتھ چکھ بھی لے تومُوافِق اور غیرمُوافِق کاپتا چل جائے گا ۔
دیکھئے!زرد رنگ کاپتا دیکھنے کی حِس سے چلا جبکہ موافق اور غیرموافق ہونا چکھنے کی حِس سے معلوم ہوا لہٰذا پتا چلاکہ ان دونوں حواس کوجمع کرنےوالی ایک اور حِس کی ضرورت باقی ہے جس سے رنگ اور ذائقہ دونوں کاپتا چل سکے تاکہ بندہ موافق اور غیرموافق دونوں کاآسانی سے فرق معلوم کرلےچنانچہ اس دُشواری کوختم کرنے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ”حِسِّ مُشْتَرَک “پیدافرمائی ۔اَلْغَرَض !انسان ہویاغیرانسان ہرایک حواسِ خمسہ اورحِسِّ مُشْتَرَک کا محتاج ہے جیساکہ بکری میں یہ تمام حواس ہوتے ہیں۔
نعمَتِ عقل کے فوائد:
حواسِ خمسہ اورحِسِّ مشترک ہونے کے باوُجود انسان دیگر حیوانات کی طرح ناقص ہی رہتا جیساکہ کسی جانور کو حیلے سے پکڑلیا جائے تو ا سے یہ معلوم نہیں ہوتاکہ کس طرح جان بچائی جائے اور قید سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ بسااوقات جانورخود کو کنویں میں گِرا لیتا ہے اسے اتنابھی پتا نہیں ہوتا کہ یہ ہلاکت کا باعث ہوگا۔کبھی کبھار جانور کسی چیزکو لذیذ سمجھ کرکھاتولیتے ہیں لیکن انھیں پتا نہیں چلتا کہ کھاکر مر بھی سکتے ہیں، وجہ یہی ہے کہ وہ صر ف ظاہری اور موجودہ حالت کودیکھتے ہیں ،ان میں غور وفکر کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی کہ اس کا انجام کیاہوسکتا ہے؟