کے سامنے اگر کوئی غذا دور رکھی ہوتی تواس کاشُعورحاصل نہیں ہوتا بلکہ جوچیزہاتھ لگ جاتی اُسےغذاسمجھ کر اپنی طرف کھینچ لیتا۔اشیاءکومحسوس کرنے کی ضرورت پوری کرنےکےلئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نےانسان کو سونگھنے کی حِس جیسی نعمت سے نوازا۔
دیکھنے کی حس:
سونگھنےکی حِس سےانسان بد بواورخوشبو کااندازہ تولگا لیتاہےمگریہ کہاں سے آرہی اسے پتانہیں چلتا۔ فقط سونگھنے کی حس ہوتی توانسان بو محسوس کرنے کے لئے ہر طرف بھاگتاپھرتا۔کبھی بو تک پہنچ جاتا، کبھی نہیں پہنچ پاتایوں انسان انتہائی ناقص ہوکررہ جاتا،لہٰذاسونگھنے کی حس کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دیکھنےکی حس پیدافرمائی تاکہ انسان چھونے سونگھنے کے ساتھ مُعَیَّن اشیاءکودیکھ بھی سکے اوراسےآس پاس کابھی علم ہوجائے تاکہ جس طرف جاناچاہے بآ سانی جاسکے۔
سُنْنَے کی حِس:
فقط چھونے،سونگھنےاوردیکھنے کی حِس ہوتی تب بھی انسان ناقص ہوتا کیونکہ عام شخص دیواروں اور پردوں کے پیچھے نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہی ان چیزوں کا اسےعلم ہوسکتا ہے ۔ایسی حالت میں یہ صرف سامنے موجود اشیاءہی دیکھ پاتاہے اور دشمن کو اسی وقت محسوس کرسکتا جب وہ سامنےہوتا ہے ۔اگر دشمن پردے کے پیچھے ہوتاتواسے کسی حرکت کااحساس تک نہ ہوتااچانک پردہ ہٹتا،دشمن حملہ کرتا مگرسامنےوالابھاگ نہ پاتا۔لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان میں سننے کی حس پیدافرمائی تاکہ انسان دیواروں اور پردوں کے پیچھے ہونے والی حرکت کو محسوس کرسکے اورسامنے موجوداشیاء دیکھنے کے علاوہ نظروں سے اوجھل لفظوں اور آوازوں سے مرکب گفتگو بھی سن سکے اور چونکہ یہ سب سننےکی حِس سے ممکن تھا لہٰذا انسان کےلئے کان پیدا کردیئے گئے۔
چکھنے کی حِس:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےانسان کوسننےکی حِس کے ذریعے کلام سمجھنے کی نعمت سے نوازکر دوسرے تمام حیوانات سے ممتاز فرمادیامگر جب تک چکھنے کی حِس عطا نہ ہوئی انسان کامل نہ ہوا کیونکہ اگر چکھنےکی حس نہ ہوتی