کہ اگر ان کو غذانہ پہنچے تو خشک ہوجاتے ہیں اور یہ تو خود کہیں سے غذابھی حاصل نہیں کرسکتےکیونکہ کسی چیزکوحاصل کرنے کے لئے دوچیزوں کاہونا ضروری ہے:(۱)…شے مطلوب کاعلم ہونااور (۲)…مطلوب تک پہنچ جانا اور نباتات میں یہ دونوں صلاحیتیں نہیں ہوتیں۔
مُلاحَظہ فرمائیے!انسان پراللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتنی نعمتیں ہیں حتّٰی کہ غذاحاصل کرنے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کو احساس اور حرکت و عمل جیسےآلات سے بھی نوازا۔
حواسِ خمسہ کی نعمت :
حواسِ خمسہ یعنی چھونے ،سونگھنے ،دیکھنے ،سننے اور چکھنے کی حِس کی تخلیق پر غور کیجئے!یہ پانچوں حواس اشیاءکو پہچاننے میں کس طرح مددگارہوتے ہیں اس ترتیب کی حکمت کوسمجھئے۔
چھونے کی حِس:
چھونے کی حس پر غور کیجئے!اس میں کتنے انسانی فوائد پوشیدہ ہیں۔یہاں تک کہ جب آگ سے جسم جلےیاتلوارسے کو ئی زخم پہنچے تواسی حس کی بدولت انسان محسوس کرتا اور بھاگ کھڑاہوتا ہے ۔تمام ذِی رُوح میں یہی حِس سب سے پہلے پیداکی جاتی ہے،اس حس سےکوئی بھی ذی روح خالی نہیں ہوسکتا۔چنانچہ اگر کسی میں یہ حس بالکل نہ ہوتواسےذی روح نہیں کہاجائے گا۔ کم سے کم اتنی حِس کاہوناضروری ہے کہ جو چیز کسی سے چھو جائے اُسےمحسوس ہوجائے۔ دور کی چیزوں کومحسوس کرلینا” کامل احسا س “کہلاتاہے۔
اَلْغَرَض !ادنیٰ سی حِس تو ہر ذی روح میں پائی جاتی ہے حتّٰی کہ کیچڑ میں پائے جانے والے کیڑے میں بھی ہوتی ہےکہ اگر اسے سوئی چُبَھائی جائے تو وہ بچنے کی کوشش کرتا ہےجبکہ نباتات میں ادنٰی سی حس بھی نہیں پائی جاتی جیساکہ انہیں کاٹا جائے تو وہ بچنے کے لئے کوئی حرکت نہیں کرتے کیونکہ ان میں محسوس کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی ۔
سونگھنے کی حِس:
یادرہے!اگرانسان میں سونگھنےکی حِس نہ ہوتی فقط چھونے کی حِس ہوتی تووہ کیڑےکی طرح ہوتاجس