دوسری فصل : اللہ تعالٰی کی بے شمار نعمتوں اور ان کے
تسلسُل کا بیان
جان لیجئے!ہم نے نعمت کی چھٹی قسم کو 16 قسموں میں تقسیم کیا۔صحت وتندرستی کودوسرے مرتبے کی نعمتوں میں شمار کیا۔ اگر اس ایک نعمت کاہی اندازہ لگایاجائےکہ کن کن مَراحِل سے گزر کریہ مکمل ہوتی ہے توہم ایسا نہیں کرسکتے۔
اَلْغَرَض !نعمت کی ایک قسم صحت ہے،اس کےبے شمار اسباب ہیں ایک سبب کھانا ہے۔ہم کھانے کی نعمت کومکمل کرنےوالے چند اسباب کاضمناً ذکر کرتے ہیں ۔ کھانا ایک فعل ہےجو فعل ہونے کےلحاظ سے حرکت و عمل ہے اور ہرحرکت وعمل کے لئے کوئی حرکت کرنےوالاہوتاہےاور حرکت و عمل پر قدرت بھی ضروری ہے اور حرکت کے لئے ارادہ بھی لازم ہے اور ارادے کے لئے علم وادراک بھی ضروری ہے اور اگربھوک مٹانی ہوتو کھاناموجود ہونا بھی ضروری ہےپھر کھانا حاصل کرنےکے ذرائع کاہونا بھی ضروری ہےاورکھاناپکانے والابھی ہوناچاہئے۔آگے ہم قوتِ مُدْرِکہ(1) ،ارادے،اختیار اور غذا کے اسباب ترتیب سے مختصراً بیان کریں گے۔
قوتِ مُدرِکہ کے اسباب کی تخلیق میں نعمتیں:
غور کیجئے!خدائے مہربان نےزمین سے نباتات پیدا کئے۔انہیں پتھر، ڈھیلے، لوہے ،تانبے اور جواہرات کے مقابلے میں کامل وجود عطا فرمایا کیونکہ ان تمام چیزوں میں تو نشوونَما کی قابلیت اور قوتِ غذائیت بھی نہیں جبکہ نباتات کی جڑوں کوقوتِ غذائیت سے نوازا۔ان کی جڑیں اگرچہ زمین میں ہوتی ہیں لیکن انہیں غذا کا ذریعہ بنایا۔نعمتوں کاتسلسل دیکھئے!ابتداءً پتوں میں محسوس ہونے والی باریک جڑیں آہستہ آہستہ موٹی ہوکر پھیلنےلگتی ہیں۔رفتہ رفتہ موٹی جڑوں سے باریک جڑیں پھو ٹتی ہیں،پتے پھیلتے رہتے ہیں ،یہ سلسلہ جاری رہتاہے حتّٰی کہ وہ جڑیں پتوں میں گم ہوکرنظروں سے اَوجَھل ہوجاتی ہیں۔مگر ا س کے باوُجودنباتات ناقص
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…دریافت کرنے اور معلوم کرنےکی قوت۔