Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
324 - 882
عصمت کا معنیٰ:
	عِصْمَت کامعنیٰ بھی تائیدسے مِلتاجُلتاہے یعنی بندےکے باطن میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ایسی عنایت جس کے ذریعےانسان بھلائی کی تلاش کرنے اور برائی سےبازرہنےپرقادرہوجاتا ہےگویا باطن میں موجود کوئی غیرمحسوس چیزاسےبُرائی سےروکتی ہواوربھلائی کی طرف بلاتی ہو۔یہی مراداللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس ارشادِ  پاک میں  ہے:
وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ ۚ وَہَمَّ بِہَا لَوْلَاۤ اَنۡ رَّاٰبُرْہَانَ رَبِّہٖ ؕ(پ۱۲،یوسف:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اوربے شک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا۔
نعمت کی چھٹی قسم کا حق دار کون؟
	یہ قسم تمام نعمتوں کو شامل ہے اور اسی کے پاس رہتی ہےجسےبارگاہِ الٰہی سے پاکیزہ ذہن عطا ہو، جو دل  کے کانوں سے نصیحت کوسننےوالا،پیکرِ عجزوانکساراورنصیحت کرنے والاہو، اس قدر مال اسے حاصل ہو جو اس کے ضروری کاموں کے لئےکافی  ہو اور زیادہ ہونے کی وجہ سے دین سے دور نہ کرے نیز اتنامعزز ہوکہ احمقوں ،جاہلوں اوردشمنوں کے ظلم سے بچ جائے ۔
نعمَتِ خداوندی لامَحدُود ہے:
	نعمت کی چھٹی قسم16 اقسام میں تقسیم ہے پھر16اقسام مزیدنعمتوں اور اسباب  میں تقسیم ہوتی  چلی جاتی ہیں یہاں تک کہ نعمتوں کایہ طویل  سلسلہ اسباب کو پیدا کرنے والی ذات ربُّ العٰلمین تک پہنچ جاتا ہے چونکہ  باری تعالیٰ کی پیداکردہ نعمتیں اوراسباب لامَحدُودوبے شمار ہیں اسی  لئےسب کواس  کتاب میں لکھانہیں جاسکتا لہٰذا ہم بطورِنمونہ ان میں سےکچھ کاذکر کریں گےتاکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان:
وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعْمَۃَ اللہِ لَا تُحْصُوۡہَا (پ۱۴،النحل:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراگر اللہ کی نعمتیں گِنو تو شمار نہ کرسکو گے۔
	کی  وضاحت ہوجائے۔وَبِاللہ التَّوْفِیْق(توفیق اللہ عَزَّ وَجَلَّہی کی طرف سے ہے)
( صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد )