Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
323 - 882
وَلَقَدْ اٰتَیۡنَاۤ اِبْرٰہِیۡمَ رُشْدَہٗ مِنۡ قَبْلُ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ۵۱﴾ (پ۱۷،الانبیاء:۵۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اوربے شک ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی سے اس کی نیک راہ عطا کردی اور ہم اس سے خبردار تھے۔
	اَلْغَرَض!رُشدفلاح ونجات کے لئے مُحَرِّک اورسبب بننے والی ہدایت ہے۔ چنانچہ اگر کوئی بچہ تجارت کےطریقے،مال کی حفاظت اوراُس میں اضافے کی تدبیرسے واقف ہولیکن فُضول خرچی سے نہ بچے اورمال میں اضافہ نہ کرے ایسی صورت میں اُسےتجارت کےاچھے بُرےاُمورکی ہدایت و پہچان تو ہے لیکن  یہ  ہدایت وپہچان سبَب ومُحَرِّک نہ ہونے کی وجہ سے ناقص ہے،لہٰذااسے رُشد یافتہ  نہیں کہاجائےگا۔
	بہت سے لوگوں کو نقصان دہ اُمور کی ہدایت وپہچان ہوتی ہے پھر بھی وہ  ان میں مبتلا ہوجاتےہیں۔ نقصان دہ اُمور کی ہدایت وپہچان لاعِلْم حضرات کے مقابلے میں انہیں ممتاز تو کرتی ہے لیکن اسے رُشد نہیں کہاجائے گا۔معلوم ہواکہ  ہدایت کے ساتھ رُشد ضروری ہے  اور اس اعتبارسے رُشد ہدایتِ محض کے مقابلے میں اکمل واعظم نعمت ہے۔
’’تَسْدِیْد‘‘یعنی دُرُستی مِنْ جانِبِ اللہ کامفہوم:
	اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سےبندے کی حرکت وارادےکو مطلوب ومقصود کی طرف پھیردینا اور اُسے آسان بنادیناتسدید ہے تاکہ بندہ جلداز جلد  صحیح راستے پر استقامت حاصل کرلے ۔ جس طرح ہدایت  کے ساتھ رُشد کی ضرورت ہے تاکہ ارادے کو حرکت ملتی رہے اسی طرح رُشد کےساتھ  تسدید  بھی ضروری ہے  تاکہ اس کی مدد سےعمل کرنا آسان ہوجائے یہاں تک کہ حرکت وارادےکو مطلوب و مقصودمل جائے۔ 
	مختصریہ کہ ہدایت پہچان اور رُشد محرِّک کانام ہے تاکہ وہ بیدار ی اور حرکت  پیدا کرے اور تسدید اعضاء کی حرکت سےصحیح راستے پر استقامت  دلانے والی اِعانت و مدد کانام ہے ۔
تائیدِ باری تعالیٰ کامفہوم:
	یہ گزشتہ تینوں قسموں  پرمشتمل ہےگویااس کامعنیٰ یہ ہواکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کابندے کی باطنی بصیرت کو تقویت دینااور خارِجی اسباب کی مُوا فَقَت اور پختگی کومضبوط بنادینا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس  فرمان سے یہی مراد ہے:
اِذْ اَیَّدۡتُّکَ بِرُوۡحِ الْقُدُسِ ۟ (پ۷،المائدة:۱۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: جب میں نے پاک روح  سے تیری مدد کی۔