وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕ (پ۲۱،العنکبوت:۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے۔
درج ذیل آیت میں بھی اسی ہدایت کی طرف اشارہ ہے:
وَ الَّذِیۡنَ اہۡتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًی (پ۲۶،محمد:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جنہوں نے راہ پائی اللہ نے ان کی ہدایت اَور زیادہ فرمائی۔
٭…ہدایت کا تیسرادرجہ: دوسرے درجے سے بڑا ہے۔یہ ایک نور ہے جو کمالِ مجاہدہ کے بعد عالَم نَبُوت وولایت میں چمکتا ہے۔ اس کی وجہ سے صاحِبِ ہدایت پروہ اسرار ورُموز کھلتےہیں جہاں علم و عمل کےمنبع یعنی عقل کی بھی رسائی نہیں ہوتی۔اسی کو ہدایتِ مُطلَقہ کہتے ہیں ۔ہدایت کی بقیہ تمام ا قسام اسی کےپیچھے ہیں اگرچہ ہر قسم کی ہدایت اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے مگر ہدایت کی اس قسم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی طرف نسبت کرتے ہوئے فرمایا:
قُلْ اِنَّ ہُدَی اللہِ ہُوَ الْہُدٰی ؕ (پ۷،الانعام:۷۱)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ کہاللہ ہی کی ہدایت، ہدایت ہے۔
اسی ہدایت کوقرآنِ پاک نے زندگی قرار دیتے ہوئےفرمایا:
اَوَ مَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحْیَیۡنٰہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوۡرًا یَّمْشِیۡ بِہٖ فِی النَّاسِ (پ۸،الانعام:۱۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور کیا وہ کہ مردہ تھا تو ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لئے ایک نور کردیا جس سے لوگوں میں چلتا ہے۔
درج ذیل فرمانِ باری تعالیٰ میں بھی اسی ہدایت کی طرف اشارہ ہے:
اَفَمَنۡ شَرَحَ اللہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ (پ۲۳،الزمر:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان: تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیاتو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے۔
رُشدِباری تعالیٰ کامفہوم:
رُشداللہ عَزَّ وَجَلَّکی ایسی عنایت ہے جوانسان کےمقاصد میں مددگارثابت ہوتی ہے اور بھلائی والے کاموں میں تقویت کاباعث بنتی ہے نیز انسان کی برائیوں کوختم کرتی ہے۔رُشد کاتعلق باطن سے ہوتا ہے جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے: