Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
321 - 882
الْہُدٰی (پ۲۴،حٰم السجدة:۱۷)
تو انہوں نے سوجھنے پر اندھے ہونے کو پسند کیا۔(1)
	خلاصہ یہ کہ آسمانی کُتب ،انبیاورُسُل عَلَیْہِمُ السَّلَاماورعقلی بصیرت ہدایت کے اسباب ہیں۔ یہ اسباب ہر ایک کو مُیَسَّر ہیں مگر حسد، تکبر ،دنیا کی محبت اورباطن کو اندھا کرنے والے اسباب  اس میں رکاوٹ بنتے ہیں اگرچہ انسان حقیقتاً اندھانہ ہوجیساکہ ارشاد ِباری تعالیٰ  ہے:
فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنۡ تَعْمَی الْقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾ (پ۱۷،الحج:۴۶)
ترجمۂ کنز لایمان: تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو  سینوں میں ہیں۔
آباءواجداد کےناجائز طریقوں کی پیروی:
	آباءواجدادکےناجائز طریقوں سے لگاؤ ،ان کا عادی ہوجانااوران  پرمُصِررہنا بھی ہدایت کے اسباب سے نفع اٹھانے میں رکاوٹ بنتا ہے جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ (مشرکین کےقول کو ذکر کرتے ہوئے) فرماتاہے: 
اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ (پ۲۵،الزخرف:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا۔
	تکبر و حسد کے ہدایت میں رکاوٹ بننے سے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے:
وَقَالُوۡا لَوْلَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ ﴿۳۱﴾ (پ۲۵،الزخرف:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بولے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر۔
	اور فرماتاہے:
اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُہٗۤ ۙ (پ۲۷،القمر:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا ہم اپنے میں کے ایک آدمی کی تابعداری کریں۔
	 یہ چند اُمورباطن کواندھا کرتے ہیں نیزہدایت حاصل کرنے اور ہدایت کی جانب راہ نُمائی کرنے والے راستوں  میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
٭…ہدایت کا دو سرادرجہ: پہلے درجےسے بڑاہے ۔ہدایت  کے اس درجے میں بندے  کوہر آن اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کی مدد حاصل رہتی ہے ،ہدایت کایہ درجہ مجاہَدے کا  نتیجہ ہوتاہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…(یعنی) ایمان کے مقابلہ میں کفر اختیار کیا۔(خزائن العرفان)