ہواکہ فقط نیکی کاارادہ کافی نہیں بلکہ ارادہ ، قدرت اور اسباب کا فائدہ ہدایتِ باری تعالیٰ کی موجودگی ہی میں ہوتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
قَالَ رَبُّـنَا الَّذِیۡۤ اَعْطٰی کُلَّ شَیۡءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی ﴿۵۰﴾ (پ۱۶،طٰہٰ:۵۰)
ترجمۂ کنز الایمان: کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر راہ دکھائی۔
اورارشاد فرماتا ہے: وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ مَا زَکٰی مِنۡکُمۡ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا ۙ وَّ لٰکِنَّ اللہَ یُزَکِّیۡ (پ۱۸،النور:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں کوئی بھی کبھی ستھرا نہ ہوسکتا ہاں اللہ ستھرا کردیتا ہے جسے چاہے۔
نیز سرکارِ مدینہ،قرارِقلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”کوئی بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت یعنی ہدایت کے بغیر جنت میں نہیں جائے گا۔“کسی نے عرض کی :یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیاآپ بھی؟ فرمایا:” میں بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے ہی جنت میں جاؤں گا۔“(1)
ہدایت کے درجات :
ہدایت کے تین درجات ہیں:
٭…ہدایت کاپہلادرجہ:خیر و شر کی راہ بتانا ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے فرمان میں یوں بیان فرمایا: وَ ہَدَیۡنٰہُ النَّجْدَیۡنِ ﴿ۚ۱۰﴾ (2)یعنی ہم نے اُسے خیروشر کی راہ بتائی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہدایت کے ذریعے تمام بندوں پر مختلف انعامات فرمائے ۔بعض کو عقل کےفیضان اور بعض کو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکی مبارک زبان سے ہدایت کاراستہ بتایا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے:
وَ اَمَّا ثَمُوۡدُ فَہَدَیۡنٰہُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰی عَلَی
ترجمۂ کنز الایمان: اور رہے ثمود انہیں ہم نے راہ دکھائی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسلم، کتاب صفة القیامة، باب لن یدخل احد الجنة بعمله…الخ، ص۱۵۱۳، حدیث:۲۸۱۶
2…ترجمۂ کنز الایمان:اور اسے دو اُبھری چیزوں کی راہ بتائی۔(پ۳۰،البلد:۱۰)