کہ آئندہ چہرے کو دھندلادینے والے بخارات اور سانس سے اسے بچائیں گے بلکہ ضروی ہے کہ پہلے اس پر چڑھا ہوا زنگ دور کیا جائے اور جس طر ح گناہوں اور خواہشات سے ایک اندھیرا دل کی طرف اٹھتاہےاسی طرح نیکیاں کرنے اور خواہشات کوچھوڑنے سے ایک نور دل کی طرف بلند ہوتا ہے۔ پس گناہ کا اندھیرا اطاعت کے نور سے مٹ جاتاہے اور حدیث شریف میں بھی اسی کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔ چنانچہ،
محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:”اَتۡبِعِ السَّیِّئَةَ الۡحَسَنَةَ تَمۡحُھَا یعنی گنا ہ کے بعد نیکی کرلویہ اسے مٹا دے گی۔‘‘(1)
پس مُعامَلہ یہ ہے کہ بندہ کسی حال میں اپنے دل سے گناہوں کے اَثرات کو نیکیاں کرکے مٹا نے سے بے نیاز نہیں کیونکہ نیکیوں کے اثرات گناہوں کے اثرات کی ضد ہیں اور یہ اس دل میں ہوتا ہے جو شروع میں صاف وشفاف ہو پھر عارضی اسباب سے تاریکی وسیاہی کا شکار ہوگیا۔ پھر یہ کہ دل میں پہلے جیسی صفائی وروشنی پیدا کرنا مشکل وطویل عمل ہے کیونکہ آئینے سے زنگ کو ختم کرنا اتنا بڑاکام نہیں جتنا خود آئینہ بنانا دُشوار ہے۔ پس یہ طویل اعمال کبھی انسان سے علیحدہ نہیں ہوتےاور یہ تمام کا تمام توبہ کی طرف لوٹتاہے ۔
واجب کے دومعانی ہیں:
جہاں تک آپ کی یہ بات ہے کہ” اسے واجب نہ کہاجائے بلکہ یہ صرف اضافی خوبی اورکمال حاصل کرنا ہے۔“ تو جان لیجئے کہ واجب کے دو معنی ہیں:
(1)…ایک وہ جو شریعت کے فتوٰی میں داخل ہے اور اس میں سارے لوگ شریک ہیں اور وہ اتنی وُسْعَت ومقداررکھتا ہے کہ اگر تمام لوگ بھی اس میں مشغول ہوجائیں تو نظام دنیا خراب نہیں ہوگا(اور اس کے برعکس) اگر تمام لوگوں کو اس کا پابند بنایا جائے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ایسا ڈریں جیساکہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تو وہ گُزربَسرکے اَسباب چھوڑدیں گے اور دنیا سے بالکل کنارہ کش ہوجائیں گے اورپھر ان کے اسی عمل سے تقوٰی مکمل طور پرباطل و ضائع ہوجائے گاکیونکہ جب معیشت واسبابِ زندگی تبا ہ ہوجائیں گے تو کوئی بھی شخص تقوٰی کے لئے فارغ نہ ہوگا بلکہ کپڑے بننے،کھیتی باڑی کرنے اور روٹی پکا نے وغیر ہ کاموں میں مشغول رہے گا اور ہر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل،مسندالانصار، حدیث معاذ بن جبل ،۸/ ۲۴۵، حدیث : ۲۲۱۲۰