انہیں مسکین کو کھانا کھلانے،بےلباس کو لباس پہنانےاور مہمان کی مہمان نوازی کا حکم دیجئے۔(1)
اَلْغَرَض !دنیاوی نعمتیں دیگراشیاءسے ملی ہوئی ہیں،دواکے ساتھ مرض، امیدکے ساتھ خوف،نفع کے ساتھ نقصان ملا ہوا ہے۔لہٰذا جسے اپنی بصیرت اور کمالِ معرفت پر اعتماد ہووہ شخص مال ودولت کے نقصان سےبچتے ہوئے اوراس کی دواکواستعمال کرتے ہوئےاسے رکھ سکتا ہے اور جسے اعتماد نہ ہو اسے خَطْرات کے مقام سے علیحدہ ودُوررہنا چاہئے اور ایسے لوگوں کے لئےبچنا ہی بہتر ہے ۔عموماً لوگ دنیاکی دولت میں پھنس جاتے ہیں مگر جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ محفوظ رکھے اور اپنے راستے کی طرف راہ نمائی فرمائے۔
توفیْقِ خداوندی کی وضاحت:
توفیْقِ خداوندی کی نعمت جس کا تعلق ہدایت،رُشد اور تائید باری تعالیٰ نیز تسدید یعنی دُرستی مِنْ جَانِبِ اللهہے اس کا کیا مطلب ہے؟جواب :جان لیجئے!توفیْقِ خداوندی ہر ایک کے لئےضروری ہے ۔توفیق کا مطلب بندے کے ارادے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے لکھی ہوئی تقدیر کا ایک دوسرے کےموافق ہونا ہے۔ توفیق عام ہے اچھی ہو یا بُری،نیک ہویابد،البتہ عام طور پرعوام میں توفیْقِ خُداوندی سےمرادتوفیْقِ خیرلی جاتی ہے جیسے اِلحادکے لغوی معنیٰ میلان ہے لیکن اب حق سے باطل کی طرف میلان کا نام اِلحاد کہلاتا ہے یونہی اِرتدادوغیرہ جیسے الفاظ ۔
توفیْقِ خداوندی کی ضروت سے کسی کوانکار نہیں چنانچہ شاعر کہتا ہے:
اِذَا لَمْ یَکُنْ عَوْنٌ مِّنَ اللہ لِلْفَتٰی فَاَکْثَرُ مَا یَجْنِی عَلَیْہِ اجْتِھَادُہٗ
ترجمہ:جب کسی کی باری تعالیٰ کی طرف سے مدد نہ ہو تو اکثر اوقات اس کی کوشش ہی اس کے حق میں بُری ہوجاتی ہے۔
ہدایتِ باری تعالیٰ کامفہوم:
ہدایَتِ باری تعالیٰ کے بغیر کوئی شخص سعادت حاصل نہیں کرسکتا۔ انسان بعض اوقات نیکی کاارادہ کرتا ہے لیکن اسے پتا ہی نہیں چلتا کہ نیکی وبھلائی کس چیزمیں ہے حتّٰی کہ وہ گناہ کو بھی نیکی سمجھ بیٹھتا ہے۔معلوم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المستدرک، کتاب معرفة الصحابة، باب مناقب عبدالرحمن بن عوف،۴/ ۳۶۸، حدیث: ۵۴۰۹،بتغیر