Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
318 - 882
کرنا ہی تِریاق ہے او ر جمع کرنا زہر ِقاتل ہے۔
مَذمَّتِ مال ودولت کی وُجوہات: 
	اگرلوگوں کو مال کمانے کی چھوٹ دے دی جائےتو وہ اسی میں مگن ہوجائیں گے اور مال  ودولت جمع کرنے جیسےزہر ِقاتل کاشکارہوجائیں گے نیزخرچ کرنے جیسے تِریاق کوبھول جائیں گے۔انہی وُجُوہات کی بناپر مال ودلت کی مَذمت کی گئی ہے ۔مطلب یہ ہے کہ مال داری کی حرص اور ذخیرہ اندوزی مذموم صفت ہے کیونکہ مالداری کی حرص اور نعمتوں  میں زیادتی کی تمنا دنیا اور اس کی لذت کی طرف مائل کرتی ہے لیکن بقدرِ ضرورت مال ہونا اور زیادہ ہونے کی صورت میں نیک کاموں میں خرچ کرنا مذموم صفت نہیں ہے کیونکہ ہر مسافر بقدرِضرورت زادِراہ  رکھنے کا حقدار ہوتا ہے اور اگر  دیگر رُفَقا پر خرچ کرنا اور انہیں کھاناکھلانا چاہے تو زیادہ لے جانے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔
	سیِّدِعالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے:”لِیَکُنْ بَلَاغُ اَحَدِ کُمْ مِنَ الدُّنْیَا کَزَادِ الرَّاکِبِ  یعنی تمہارا دنیاوی توشہ مسافر کے زادِ راہ کی طرح ہونا  چاہئے۔“(1)
حدیث پاک کا مطلب:
	حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ اپنے لئے بقدرِضرورت اشیاء رکھو۔ اس حدیث کو بیان کرنے والے بھی ایسا ہی کرتے تھے ،یہ لوگ لاکھوں لاکھ کماتے تھے مگر (ضرورت سے زائد)کچھ بھی نہ بچاتے۔سب لوگوں پر خرچ کردیتے۔
	ایک باررسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد  فرمایا: ”مال دار لوگ مشکل کا سامنا کرکے جنت میں داخل ہوں گے۔“یہ سن کرحضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےاپنی تمام ملکیت صَدَقہ کرنےکی اجازت چاہی ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اجازت عطا فرمائی تو حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہ  ِرسالت میں حاضری دی اور فرمایا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الزھد لابن ابی عاصم، ص۶۵، حدیث:۱۶۹