Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
317 - 882
 ہوسکتا ہےجبکہ بچے کی ہلاکت میں بڑانقصان ہے۔ اب باپ کے لئے ضروری ہے کہ سانپ سے دور بھاگے اور بچے کو بھی سانپ سے دور بھاگنے کا کہے نیزبچے کو سانپ کی شکل وصورت سے ڈرائےاور اسے بتائے کہ اس میں جان لیوا زہر ہے جس کے اثرسے بچنا انتہائی مشکل ہےاورکبھی بھی بچے کو نہ بتائے کہ اس میں نفع بخش تِریاق بھی ہے کیونکہ بچہ انجانےمیں اس پر جرأت کر سکتاہے ۔
ماہر تیراک اور بچہ:
	یونہی ایک شخص تیراکی کےفَن میں ماہرہے۔اسےمعلوم ہے کہ بچے کےسامنے دریا اور نہر وغیرہ میں غوطہ لگانانقصان دہ ہے کیونکہ وہ بھی ایسا کرنے کی کوشش کرے گا اور ہلاکت  میں جا پڑے گا بلکہ اسے تو بچے کو دریا اور نہر وغیرہ  کے کنارے پرجانے سے بھی ڈراناچاہئے۔پھراگربچہ یہ سوچ کرنہ ڈرےکہ ابو خودبھی تو دریا اور نہر میں جاتے ہیں تو اب والدکے لئےضروری ہے کہ خود بھی ساحل کی طرف جاناچھوڑدے اور بچے کو بھی دوررکھے ،اس کے سامنے ہر گزدریا کے قریب نہ جائے۔
اُمَّت کی  مثال: 
	امت بھی انبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی آغوشِ شفقت میں ناواقف بچوں کی طرح ہے جیساکہ خلق کے رَہْبَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”اِنَّمَا اَنَا لَـکُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِـوَلَدِہٖ یعنی  جس طرح والد اولاد  کے لئے ہوتا ہے میں  تمہارے لئے ویسا ہی ہوں۔“(1)نیزارشاد فرمایا :”اِنَّکُمْ تَتَھَا فَتُوْنَ عَلَی النَّارِ تَھَا فُتَ الْـفَرَاشِ َواَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِ کُمْ یعنی تم پروانوں کی طرح آگ میں کودرہے ہواورمیں تمہارے کمربندپکڑکرتمہیں گرنے سے بچارہاہوں۔“(2)
انبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکی بعثت کا مقصد:
	انبیاکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام كی بعثت کا  سب سے بڑا  مقصد  اُمتوں  کو ہلاکت خیزباتوں سے بچانا تھا،ما ل ودولت سےانھیں کوئی غرض نہ تھی۔یہ حضراتِ قُدْسِیَہ صر ف اتنا مال رکھتے جتنی ضرورت ہوتی اور اسی پر اِکتفا کرتے۔اگر کبھی مال زیادہ ہو جاتا تو اسے جمع نہیں کرتے بلکہ راہ ِ خدامیں خرچ کردیتے کیونکہ راہ ِ خدا میں خرچ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن ابن ماجہ، کتاب الطھارة، باب الا ستنجاء بالحجارة،۱/ ۱۹۸،حدیث:۳۱۳
2… المعجم الکبیر،۱۰/ ۲۱۵، حدیث: ۱۰۵۱۱ …… بخاری،کتاب الرقاق، باب الانتھاء عن المعاصی،۴/ ۲۴۲،حدیث:۶۴۸۳،بتغیر