والے اَقوال و فرامین کی موجودگی میں مال ودولت ،جاہ و منصب اور بیوی بچے نعمت شمار ہوں گے؟
جواب :چونکہ اس سوال کی بنیادقرآن وحدیث کوٹھہرایاگیاہےاسی لئے پہلےیہ سمجھ لیجئے کہ قرآن وحدیث کے فقط ظاہری معنیٰ اور مخصوص الفاظ سے دلیل پیش کرنے والا شخص اکثرگمراہی کاشکار ہوجاتا ہے۔ قرآن وحدیث وہی سمجھ سکتا ہے جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے اس کی ہدایت ملے پھر قرآن وحدیث کی روشنی میں تاویل وتخصیص کوپیْشِ نظررکھے۔مال ودولت ،جاہ و منصب ، بیوی بچے آخرت کےلئے مددگار ہیں،اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں اور یہ حقیقت بھی تسلیم ہے کہ ان کی وجہ سے انسان مصیبت و آزمائش میں مبتلاہوسکتا ہے مثلاً ”مال“ سانپ کی طرح ہے کہ جس میں نفع بخش تِریا ق(1)بھی ہے اور نقصان پہنچانے والا زہر بھی۔جو شخص اس کے زہر سے بچنے کا طریقہ جانتا اور نفع بخش تِریاق نکال سکتا ہے اس کے لئے یہ نعمت ہے اورناتجربہ کارشخص پکڑے تو اس کےلئے یہی سانپ مصیبت و آزمائش ہے ۔مال گویا ایک سمندر ہے، جس کی تہہ میں مختلف اقسام کے ہیرے جواہر ات ہیں، جو شخص ماہر تیرا ک ہے نیز سمندری خطرات سے بچناجانتا ہے وہ توسمندری نعمتوں کوحاصل کرلے گا مگر جو اس مَہارت سے عاری ہونے کے باوجود غوطہ لگائے گا وہ یقیناً خود کو ہلاکت میں ڈالنے والا کہلائے گا۔
مال کے مزیدفائدے:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے(سورۃ البقرہ کی آیت:۱۸۰میں) مال کو”خیر“فرمایاہے ۔رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی اس کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”نِعْمَ الْعَوْنُ عَلٰی تَقْوَ ی اللہ الْمَالُ یعنی مال خوفِ خدا کے لئے بہترین مدد گار ہے۔“(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حُضور خَاتَمُ النَّبِیِّیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوتمام مَذاہِب وادیان پرغلبہ عطا فرمایا اور آپ کی مَحبت تمام مخلوق کے دلوں میں ڈال دی اسی احسان کا نام جاہ و منصب ہے۔
مال و مرتبہ کی مَذمت :
قرآن و حدیث میں مال ومرتبہ کی تعریف بہت کم اور مذمت زیادہ مذکور ہے۔جہاں بھی ریاکاری کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…زہرکا اثرختم کرنےوالی دوا۔
2… مسندالشھاب،۲/ ۲۶۰،حدیث:۱۳۱۷