Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
313 - 882
  ہےیوں مال و دولت اور جاہ و منصب  کی طرح  خوبصورتی بھی کامیابی کا  ذریعہ بن جاتی ہےگویا  یہ طاقت و قدرت کی نوعیت اختیار کرجاتی ہے۔اَلْغَرَض!خوبصورت شخص اپنی حاجتوں کی تکمیل میں بدصورت پر برتری رکھتا ہے اور اس کی یہی  دنیاوی خوبی اُخروی اُمور  کے لئےبھی  مددگارومفید ثابت ہوسکتی  ہے ۔
(2)...عموماً ظاہری خوبصورتی سے باطنی خوبصورتی کاپتا چلتا ہے کیونکہ جب باطنی نور  کامل ہوکر جسم پر ظاہر ہونے لگتا ہے توظاہر و باطن یکساں ہوجاتاہے۔ 
ظاہر باطن کاآئینہ ہے:
	باطن میں ظاہرکااثر ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ اولیائےکرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامظاہر کودیکھ کر باطن پہچان لیتے ہیں چنانچہ وہ فرماتے ہیں:”چہرہ اور آنکھ باطن کا آئینہ ہیں۔“حقیقت بھی یہی ہے کہ چہرے اور آنکھ میں غم وغصہ ، خوشی ومسرت کا اثر پایا جاتا ہے ۔
	منقول ہے کہ خوش نُماچہرہ  باطن کا اثر ہوتا ہے اور  کہا جا تا ہے کہ دنیا کی ہر قبیح چیز کو اس کا چہرہ ہی سنوارتا وسجاتا ہے۔
حکایت:ظاہری وباطنی حُسن سے محروم
	منقول ہے کہ ایک بارعباسی خلیفہ مامونُ الرَّشید نے فوج  کاجائزہ لیا، ان میں ایک بدصورت شخص نظر آیا۔ خلیفہ نے اس سے گفتگو کی تو وہ  ہَکْلا بھی نکلا۔خلیفہ نے اسے معزول کر دیا اور کہنے لگا:اگرروح  کی چمک ظاہرپر پڑنے لگے تو اسے صباحت یعنی خوبصورتی کہتے ہیں اور اگر باطن پرپڑنے لگے تو فصاحت کہلاتی ہے۔یہ شخص تو ظاہری وباطنی ہردوحُسن سے محروم ہے ۔
	مُحْسِنِ کائنات،فخْرِموجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اُطْلُبُوا الْخَیْرَعِنْدَ صَبَاحِ الْوُجُوْہ یعنی بھلائی  خوبصورت چہرے والوں سے مانگو۔“(1)
	امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:جب کہیں قاصد بھیجنےکاارادہ کرو تو اچھے نام اور اچھے چہرے کاانتخاب  کرو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسندابی یعلی، مسندعائشہ،۴/ ۲۲۳،حدیث: ۴۷۴۰،بتغیرقلیل