Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
311 - 882
اسی لئے کہا جاتاہے  کہ ”دین اور حکمرانی لازم وملزوم ہیں۔“اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:
وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الۡاَرْضُ (پ۲،البقرة:۲۵۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے  تو ضرور زمین تباہ ہوجائے۔
جاه ومنزلتکا مطلب:
	جاہ و منزلت  کا مطلب لوگوں کے دلوں کامالک ہوناہے جیسا کہ مالداری کا مطلب جائیداد اور پیسوں کا مالک ہوناہے۔ لوگ مال دار شخص کے دل میں جگہ بناتے ہیں تاکہ نقصان و تکلیف سے بچ جائیں  جس طرح آدمی کوبارش سے بچنے کے لئے چھت ،سردی سے تحفظ کے لئے گرم کپڑےاور جانوروں کو بھیڑیئے سے بچانے کے لئے کُتّے کی ضرورت ہوتی  ہے اسی طرح خودسے شر کو دو ر کرنے والی چیزوں کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔	جن انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے پاس  دنیاوی حکومت و سلطنت نہ تھی وہ بادشاہوں  سے حکمت کے پیْشِ نظر برتاؤ رکھتے تھے تاکہ ان میں اپنی جاہ ومنزلت قائم رکھ سکیں۔علمائےدین بھی بادشاہوں کےساتھ دینی مَصْلِحَت کےپیْشِ نظرتَعَلُّقات رکھتے تھے،انہیں بادشاہوں کے خزانے اور دنیاوی مال جمع کرنے سے کوئی غَرَض نہ تھی اورہرگز تم یہ گمان نہ کرنا کہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاجاہ  ومنزلت ہجرت سے پہلے کم تھا کہ کُفَّارِ مکہ کی تکالیف کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہجرت کی حاجت پیش آئی اورجب مکہ فتح ہوا،دین کامل ہوا،تمام دشمنوں پر غلبہ ہوگیااور ہر ایک کے دل میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت بیٹھی تو اس نعمَتِ الٰہی میں اضافہ ہوا۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	کیا  عمدہ نسب اورخاندانی شرافت بھی نعمت ہے ؟جواب : جی  ہاں نعمت ہےجیساکہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”اَلْاَئِمَّةُ مِنْ قُرَیْشٍیعنی خلفاقُریش سے  ہیں۔“(1)اسی وجہ سے سیِّدِعالَم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نسب تمام لوگوں میں سب سے اعلیٰ واشرف ہے ۔
	 آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تَـخَیَّرُوْا  لِـنُطَفِکُمُ الْاَکْفَاءیعنی عمدہ خصائل والی عورت سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الکبری للنسائی، کتاب القضاء، باب الا ئمة من قریش،۳/ ۴۶۷، حدیث:۵۹۴۲