Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
31 - 882
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	یہ بات مخفی نہیں کہ دل پر غم اور خیالات کاطاری ہونا نقص وخرابی ہے اور دل کا ان سے خالی ہونا کمال وخوبی ہے جبکہ جلالِ الٰہی کی حقیقت کی معرفت میں کمی نقص وخرابی ہے اور جب مَعْرِفَت میں اضافہ ہوتا ہے کمال بھی بڑھتا جاتاہے  اور اسباب نُقصان سے کمال کی طرف منتقل ہونا رجوع کہلاتاہے اور رجوع توبہ ہے مگر یہ فضائل ہیں فرائض نہیں اور آپ نے ہر حال میں توبہ کے واجب ہونے کی بات کی ہے حالانکہ ان امور سے توبہ واجب نہیں کیونکہ کمال کو مکمل طور پر حاصل کرنا شریعت میں واجب نہیں۔تو پھر آپ کی اس بات کا کیا مطلب ہے”توبہ ہر حال میں واجب ہے۔“
	یادرکھئے!یہ بات بیان ہو چکی  ہے کہ انسان اپنی پیدائش کی ابتدا میں اتباعِ خواہشات سےبالکل خالی نہیں ہوتا اور توبہ کا مطلب یہ نہیں کہ صرف خواہشات کو چھوڑ دیاجائے بلکہ گذشتہ گناہوں کے تدارک وتلافی سے توبہ مکمل ہوتی ہے اور ہروہ خواہش جسے انسان پورا کرگزرتا ہے اس سے ایک اندھیرااس کے دل کی طرف اٹھتا ہے جیسے انسانی سانس سے ایک سیاہی(یعنی بھاپ) صاف ستھرے آئینے کو دھندلا دیتی ہے۔ پھر اگر خواہشات کے اندھیروں کا انبار لگ جائے  تو وہ زنگ بن جاتا ہے جیساکہ آئینہ پر سانس کی بھاپ بڑھتے بڑھتے اسے زنگ لگادیتی ہے۔چنانچہ،ارشادِ باری تعالیٰ ہے: کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾ (پ۳۰،المطففین:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے۔
	پھر زنگ جب تہہ درتہہ جم جاتا ہے تو وہ طبیعت وعادت میں داخل ہوجا تاہے اوردل اس کاخوگر بن جاتا ہے۔ جیساکہ آئینہ پر اگر سانس کی بھاپ کی تہہ لگ جائے اور طویل مدت تک اس پر باقی رہے تو وہ اس میں سرایت کرکے اسے خراب کر دیتاہے اورپھر وہ صفائی کو قبول نہیں کرتا اور ایسا ہو جاتا ہے جیسے وہ اسی میل کچیل سے بنا ہو۔
	خواہشات کی پیروی کے تدارُک (یعنی توبہ)میں یہ کافی نہیں کہ مستقبل میں انہیں ترک کردے بلکہ دل پر جو زنگ کی تہہ جمی ہوئی ہے اسے دور کرنا بھی ضروری ہے جیسے آئینے میں چہرہ دیکھنے کے لئے یہ کا فی نہیں