Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
309 - 882
میں ہتھیار کے  بغیر لڑنےاور بغیر پروں کے  شکار  کرنے والے   شاہین کی  طرح  ہے ۔
	سیِّدِعالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے  مال کی تعریف  کرتے  ہو ئے ارشاد فرمایا:”نِعمَ الْمَالُ الصَّالِح ُلِلرَّجُلِ الصَّالِحِ یعنی مردِ صالح (1)کے لئے حلال مال بہت ہی اچھا ہے۔“ (2)
	رحمتِ عالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشادہے:”نِعْمَ الْعَوْنُ عَلٰی  تَقْوَ ی اللہ  الْمَالیعنی خوف ِ خدا کے لئے مال بہترین مدد گار ہے ۔“(3)
	یقیناً مال بہترین مددگار ہے کیونکہ جس کے پا س مال نہیں وہ تمام عُمْر روزی ،لباس و مکان اور رہن سہن کے مُعاملات ہی میں گزار دیتا ہے۔طرح طرح کی پریشانیاں  اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر سے دور رکھتی ہیں۔ اس کی پریشانیوں کا  حل فقط مال  ہی سے ممکن ہوتا ہے جس کے  نہ ہونے کی وجہ سے وہ حج، زکوٰۃ  وصَدَقات کی فضیلت  پانے اور دیگر مالی عبادات کرنےسےمحروم رہتا ہے۔
مال داری،امن ،صِحَّت اور جوانی نعمتیں ہیں :
	کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا گیا کون سی چیز نعمت ہے؟ فرمایا:مالداری  کیونکہ محتاج شخص کی کوئی زندگی نہیں ہوتی ۔کسی نے پوچھا: مزید کوئی نعمت ؟ فرمایا:امن  کیونکہ خوف زدہ شخص کی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ پھرکسی نے پوچھا: مزید کوئی نعمت ؟ فرمایا:صحت  کیونکہ  بیمار شخص کی کوئی زندگی نہیں ۔ کسی نے پھر پوچھا: مزید کوئی نعمت ؟فرمایا:جوانی  کیونکہ بوڑھے شخص کی کوئی  زندگی نہیں ۔
	بزرگ  کا یہ فرمانا دنیاوی نعمتوں کی طرف اشارہ  ہے  لیکن انہیں نعمت اس لئے فرمایا کہ یہ آخرت کے لئے مددگار ہوتی ہیں۔اسی وجہ سے مُحسِنِ کائنات،فخرِموجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”مَنْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مُفَسِّرشہیر،حکیم الامت مفتی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح میںمراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ 391پر ارشادفرماتے ہیں :مردِ صالح وہ ہے جو نیکی  پہچانے  اور کرے اور مالِ صالح وہ ہے جو اچھے راستے (سے )آئے اور اچھی راہ جائے یعنی حلال کمائی  ،بھلائی میں خرچ ہو۔
2… المسندللامام احمد بن حنبل، حدیث عمروبن العاص،۶/ ۲۴۰،۲۲۸،حدیث:۱۷۸۱۷،۱۷۷۷۸
3… مسندالشھاب،۲/ ۲۶۰،حدیث ۱۳۱۷