Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
307 - 882
ایمان کے درجات:
	ایمان کے دو درجے ہیں:(۱)… عِلْمِ مُکاشَفہ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ذات و صِفات،فَرِشتوں اور رسولوں کی معرفت (۲)…علْمِ مُعاملہ  یعنی جسمانی  مجاہَدے اور عبادات ۔
حُسْن اَخلاق کے درجات:
	حُسنِ اَخلاق کے بھی دو درجے ہیں:(۱)…خواہشات اور غضب وغصہ  کوترک کردینااسے’’عِفَّت‘‘کہتے ہیں۔(۲)…خواہشات کوترک کرنےیا ان کی پیر وی کرنے میں میانہ روی سے کام لینایعنی ایسا نہ ہوکہ ہر طرح  کی خواہش سے رُک جائےاور نہ  ہی ایسا ہو کہ ہر طرح کی خواہش کی پیروی کرے بلکہ  خواہش کی تکمیل اور اس سے بچنا عدل وانصاف کےقاعدےکےمطابق ہوجیساکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیۡزَانِ ﴿۸﴾ وَ اَقِیۡمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیۡزَانَ ﴿۹﴾ (پ۲۷،الرحمن:۸،۹)
ترجمۂ کنز الایمان:کہ  تراز (ترازو) میں بے اعتدالی (ناانصافی) نہ کرو اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ ۔
میانہ روی:
	جو شخص ہم بستری کی خواہش  ختم کرنے کے لئے خود کو نامرد بنالیتا ہےیابرائی سے بچنے اور اہل ہونے کے باوجود نکاح نہیں کرتا یا کھانا پینا چھوڑ کر عبادت اور ذکر و فکر کے قابل نہیں رہتاایساشخص عدل وانصاف  کے تقاضے پر عمل نہیں کررہا ہےاس کےبرعکس جوشخص صرف  کھانے پینےاورہم بستری کی خواہش میں مصروف  رہتاہے وہ بھی ناانصافی کررہا ہے کیونکہ عدل وانصاف یہ ہے کہ بندہ  کمی بیشی ترک کر ے اورمِیانہ روی اختیار کرکے دونوں جانب کوبرابر  رکھے۔
قربِ الٰہی کے حصول کے ذرائع:
	خلاصہ یہ ہےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے قریب کرنے والےخاص نفسانی کمالات چار ہیں:(۱)…عِلْمِ مُکاشَفہ (۲)عِلْمِ مُعاملہ(۳)عفت اور(۴)عدل و انصاف ۔ 
	ان چاروں کی تکمیل دوسری قسم یعنی جسمانی کمالات کے ساتھ ہوتی ہے۔یہ بھی چار ہیں:(۱)… صحت