محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ان کے اور آگ کے درمِیان حِجاب ہے۔جونہی موت آئے گی یہ حجاب اٹھ جائےگااور حقیقت کا انہیں پتا چل جائے گی ۔
عِلمُ الیقین اور عیْنُ الیقین:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اہْلِ حق کی زبان پرکلمَۂ حق جاری فرمایا وہ اسی حق کو ظا ہر کرتے ہوئے کہتے ہیں: جنت اورجہنم دونوں پید ا کر دئیے گئے ہیں۔جہنم کا ادراک کبھی ایسے علم کے ذریعے ہوتا ہے جسے علم ُالیقین کہتے ہیں اور کبھی ادراک ایسے علم سے ہوتا جسےعیْنُ الیقین کہتے ہیں۔ عیْنُ الیقین کاتعلق صرف آخرت سے ہے جبکہ عِلْمُ الْیَقِیْن کبھی دنیا میں حاصل ہوجاتا ہے لیکن ان لوگوں کو جنہیں نورِ یقین سے وافِر حصہ ملا ہو جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :
کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوۡنَ عِلْمَ الْیَقِیۡنِ ؕ﴿۵﴾ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ (پ۳۰،التکاثر:۵،۶)
ترجمۂ کنز الایمان:ہاں ہاں اگر یقین کا جاننا جانتے تو مال کی محبّت نہ رکھتے، بے شک ضرور جہنّم کو دیکھو گے۔
یعنی دنیا میں ہی دیکھ لو گے۔
مزید فرماتاہے: ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَیۡنَ الْیَقِیۡنِ ۙ﴿۷﴾ (پ۳۰،التکاثر:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر بے شک ضرور اسے یقینی دیکھنا دیکھو گے۔
اس سے مراد آخرت میں دیکھنا ہے۔تو بات واضح ہوگئی کہ اُخروی سلطنت کی صلاحیت رکھنے والے دل کم ہو تے ہیں جیساکہ دنیا میں نیک لوگ کم پائے جاتے ہیں۔
نعمت کی چھٹی قسم:
یہ تقسیم تمام نعمتوں کو شامل ہے۔جان لیجئے! نعمتیں دو طرح کی ہوتی ہیں:(۱)…جو بِالذّات مطلوب و مقصود ہوں اور(۲)…جو بِا لذّات مطلوب نہ ہوں بلکہ مقصود کے لئے مطلوب ہوں ۔
بِالذّات مطلوب و مقصود نعمت”اُخروی سعادت “ کا نام ہے۔اُخروی سعادت چار چیزوں پر مشتمل ہے:(۱)…دائمی زندگی(۲)…غم سے خالی خوشیوں بھر ی زندگی (۳)… جہالت سےپاک علم سے بھر پور