Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
304 - 882
 تھوڑے بہت اس قسم کے دل رکھنے والے پائے جاتےہیں وہ بھی کم زیادہ ہوتے رہتے  ہیں۔ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکے مبارک زمانوں میں ان کی کثرت تھی،جوں جوں زمانہ گزرتا گیاایسے دل رکھنے والے بھی کم ہوتے گئے،اس کمی کاسلسلہ جاری رہے گاحتّٰی کہ قیامت قائم ہوجائے گی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ پورا کرےگا جو کام ہونا ہے۔
دنیاآخرت کا آئینہ ہے:
	ایسے دِلوں  کی کمی اس  لئے ہے کہ یہ اُخروی سلطنت  کااصل سبب ہیں اورسلطنت و بادشاہ  کم  ہوا کرتے ہیں، جس طرح سلطنت اور حسن و جمال میں فوقیت رکھنے والے لوگ نادِراور ان کےمرتبےوالے لوگ زیادہ ہوتے ہیں ایسے ہی  آخرت کی سلطنت کا معاملہ ہےکہ دنیا آخرت کا آئینہ ہے۔
دنیا آخرت کا آئینہ کیسے ہے ؟
	دنیا  عالَمِ ظاہر کاجبکہ آخرت عالَم ِ غیب کا نام ہےاورعالَم ِظا ہر عالَمِ غیب کے مطابق  ہوتاہے جیساکہ آئینے میں آپ کاعکس آپ کی صورت کے مطابق ہوتا ہےعکس  کا وُجود اگرچہ دوسرے نمبر پر ہے مگر دیکھنے کے اعتبارسے پہلے پر ہے کیونکہ   آپ  اپنی ذات کو خود نہیں  دیکھ سکتے پہلے آپ آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہیں پھر اسی عکس کے ذریعے اپنی صورت پہچانتے ہیں یوں عکس وجود میں آپ کےمطابق ہوگیا لیکن معرفت وپہچان کےسلسلےمیں آپ اس کےمطابق ہوگئے۔اس قسم کی بہت سی مثالیں  اس دنیا میں مل سکتی ہیں۔
	اس مثال کامقصد یہ ہے کہ عالَم ِ ظاہر عالَمِ غیب کی تصویر ہے کہ جن لوگوں کواللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے چَشْمِ عبرت سے نوازا ہے وہ جب بھی عالَم ِ ظا ہرکی کوئی چیز دیکھتے ہیں ا سے عالَمِ غیب (آخرت) کے مطابق   سامنےرکھ  کرعبرت  حاصل کرتے ہیں جیساکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: فَاعْتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ ﴿۲﴾ (پ۲۸،الحشر:۲)
ترجمۂ کنز الایمان: تو عبرت لو اے نگاہ والو۔
	بعض لوگوں کی بصیرت اندھے پن کا شکار ہےاس لئے وہ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ دنیا ہی میں قید رہ جاتے ہیں کہ اس سے نکلنا بھی نصیب نہیں ہوتا،اسی  قید خانے  میں  ان کے لئے جہنم کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں یہ قید خانہ آگ سے بھرا ہےاوروہ آگ دلوں پر چڑھ چکی ہے لیکن آگ کی حرارت  انہیں