دونوں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں اگرچہ تمام لذتوں میں ادنیٰ ہیں ان میں تمام حیوانات شریک ہیں حتّٰی کہ کیڑے مکوڑے بھی ۔جو اس لذت سے تجاوز کرتا ہے وہ غَلَبہ واقتدار کی لذت میں پڑجاتا ہےجس میں غافل لوگ مبتلا ہیں۔پھر اگر وہ اس سے بھی تجاو ز کرتا ہے توسب سے اعلیٰ و اشرف لذت یعنی علم و حکمت کی لذت کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہےخصوصاًباری تعالیٰ کی ذات وصفات اورافعال کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہےاور اسے حاصل کرنا صِدِّیْقِیْن کا مقام ہے۔یہ مقام کامل طور پر اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب دل سےحکومت واقتدارکی محبت ختم ہوجائے جیساکہ صدیقین کے دل و دماغ سے حکومت و اقتدار کی محبت ختم ہوجاتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ بھوک اور ہم بِسْتَری کی خواہش ختم کرنے پر تو نیک لوگ بھی قادر ہوتے ہیں لیکن حکومت واقتدارکی خواہش ختم کرنے پر صرف صِدِّیْقِیْن قادر ہوتے ہیں۔ایسا ممکن نہیں کہ کبھی بھی اقتدار کااحساس و خیال دل میں نہ آئے کیونکہ یہ طاقَتِ انسانی سے باہرہے البتہ بسااوقات دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت کا ایسا غلبہ پایاجاتا ہے جس کی موجودگی میں کسی کا احساس وخیال نہیں رہتا لیکن یہ حالت عمر بھر ایک جیسی نہیں ہوتی بلکہ وقفے وقفے سے ہوتی ہے۔جس وقت بَشَری تقاضے اُبھرتے ہیں اقتدارکی خواہش پائی جاتی ہے مگر اس وقت بھی یہ خواہش اس قدر غالب اورطاقت ور نہیں ہوتی کہ نفس کو حق بات سے روکنے پر اُ کسائے ۔
دل کی اقسام :
اس اعتبار سے لوگوں کےدل چارقسموں پر مشتمل ہیں:(۱)…صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے والادل جسے فقطاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت اور معرفت میں زیادتی کی فکر ہو۔(۲)…حکومت و اقتدار،جاہ و مرتبہ، مال و دولت اورجسمانی خواہشات سے لذت حاصل کرنےوالا دل جو معرفَتِ الٰہی کی لذت اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت سے بے خبر ہو۔(۳)…عموماًاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت، اس کی معرفت سے لذت اور معرفت میں زیادتی کی فکر کرنے والادل لیکن یہ دل بعض اوقات بشری صفات کا اثر قبول کرتا ہے ۔(۴)…عموماً بشری صفات کا اثر قبول کرکے لذت حاصل کرنے والا دل البتہ بعض اوقات یہ علم و معرفت کی لذت حاصل کرلیتا ہے ۔
پہلی قسم کے دل کاپایاجاناممکن توہے لیکن بہت مشکل ہےدوسری قسم کے دل سے دنیا بھری پڑی ہےجبکہ تیسری اور چوتھی قسم کے دل پائے جاتے ہیں لیکن بہت کم ان کا وجودشاذونادرہی پایاجاتاہے جو