کوپہچاننے والی صفت ان میں اب تک پیدا نہیں ہوئی جیسے دودھ پیتے بچےکوجولذّت ماں کے دودھ میں ملتی ہے وہ شہد میں ملتی ہے نہ گوشت میں، اس کایہ مطلب نہیں کہ شہد اور گوشت میں لذت ہی نہیں اور نہ ہی بچےکاخوشی سے دودھ پینےکا یہ مطلب ہے کہ سب سے زیادہ لذّت دودھ ہی میں ہے۔
علم وحکمت کی لذت سے محروم لوگوں کی اقسام:
علم و حکمت کی لذت سے محروم لوگ تین طرح کے ہوئے:(۱)…جن کاباطن زندہ ہی نہ ہواہو جیسے بچہ۔(۲)…جن کابا طن زندہ تھا مگر خواہشات کی پیروی کے سبب مردہ ہوگیا۔(۳)…خواہشات کی پیروی کے باعث جوقلبی بیمار ی میں مبتلا ہیں۔اسی قلبی بیماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئےاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ (پ۱،البقرة:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:ان کے دلوں میں بیماری ہے۔
ایک مَقام پر ارشاد فرماتا ہے: لِیُنۡذِرَ مَنۡ کَانَ حَیًّا (پ۲۳،یٰس:۷۰)
ترجمۂ کنز الایمان:کہ اسے ڈرائے جو زندہ ہو۔
اس آیتِ طیبہ میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کا باطن مردہ ہوچکایعنی نصیحت صرف وہی مانتے ہیں جن کا باطِن زندہ ہے۔
اَلْغَرَض!مردہ دل شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بھی مردہ ہے اگرچہ جسمانی طور پر اور جاہلوں کے نزدیک زندہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ شُہَدا بارگاہ ِ الٰہی میں زندہ ہیں، ان کو رِزْق دیا جاتا ہے ، وہ فَرْحَت وسُرور میں ہیں اگرچہ جسمانی کیفیت زندہ لوگوں جیسی نہیں ۔
(2)…خاص لذّتِ بَدنیہ:
وہ لذتِ بدنیہ جس میں انسان کے ساتھ بعض مخصوص حیوانات شریک ہوں جیسےحکمرانی ، غلبہ اور برتری کی لذتیں کیونکہ یہ انسان کے علاوہ بعض حیوانات مثلاً شیر ، چیتے کوبھی حاصل ہیں ۔
(3)…عام لذّتِ بَدنیہ:
وہ لذّتِ بدنیہ جس میں انسان کے ساتھ تمام حیوانات شریک ہوں جیسے بھوک اورجماع کی لذتیں۔ یہ