Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
301 - 882
 لُطف اندوز ہوتا ہےجبکہ حکمت کی لذت صرف حکیم ودانا حضرات ہی  کو حاصل ہوتی ہےحقیقی عُلما و حکما بہت کم ہیں اگرچہ نام کے علماو حکما بے شمار ہیں۔ علم وحکمت کی لذت کواعلیٰ  مقام اس لئے حاصل ہے کہ یہ لذت انسان کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہےکبھی زائل نہیں ہوتی دنیا ہو یا آخرت ہر جگہ فائدہ پہنچاتی ہے۔دائمی رفاقت کے باوُجود اہْلِ علم اس سے اکتاتے نہیں انسان دیگر لذات مثلاًکھانے پینے سے اُ کتاجاتاہے  لیکن  علم  و حکمت  سے نہیں اکتاتا۔انسان ہم بستری کے بعد تھکاوٹ محسوس کرتا ہے لیکن علم و حکمت کے حُصول میں تھکاوٹ و بوجھ کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔جو  شخص اس اشرف واعلیٰ،باقی ودائمی  شے پر قدرت  کے باوجود  حقیر و فانی شے کواختیار  کرے تو یہ اس کی بے وقوفی و بد بختی ہے ، عقل  کا اس میں کوئی قصور نہیں۔
علم اور مال کےدرمیان چھ  طرح سے فرق ہے:
	(۱)…علم کوکسی  محافظ کی ضرورت نہیں جبکہ مال ودولت  کومحافظ کی ضرورت ہوتی ہے۔(۲)…علم بندے کی حفاظت کرتا ہےجبکہ بندہ مال ودولت کی حفاظت کرتا ہے۔(۳)…علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے جبکہ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے۔(۴)…مال چوری یا ضبط ہو سکتاہےجبکہ علم نہ توکوئی چوری کرسکتا نہ  ہی کوئی حکومت وقیادت اسے ضبط کرسکتی ہے۔(۵)…صاحبِ علم ہمیشہ پُرسکون رہتاہےجبکہ مال د ار اور  دنیاوی مرتبے والاشخص ہمیشہ خوف  میں مبتلا رہتا ہے۔(۶)…علم ہمیشہ نفع بخش ، لذیذ اور جمیل ہوتا ہےجبکہ مال کبھی ہلاکت کی طرف لے جاتاہےتوکبھی نجات کاراستہ دکھاتا ہےجیساکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے قرآن پاک میں کئی مَقامات پر مال کی مَذمَّت کی ہے اگرچہ کئی مقامات پر اسے خیر(یعنی بھلائی)بھی  فرمایا ہے۔ 
لذتِ علم سے محرومی کی وُجوہات:
	 اکثر لوگ لذتِ علم سے محروم ہیں جس کی تین وجوہات ہیں:(۱)…لوگوں  میں علم و حکمت  کے ادراک کا ذوق ختم ہوگیاہےکہ بے ذوق علم وحکمت کوسمجھ سکتا ہے نہ  اس  میں شوق پیدا ہو سکتا ہےکیونکہ شوق، ذوق کے بعد آتا ہے۔(۲)…نفسانی خواہشات کی پیروی کے سبب لوگوں کے مزاج خراب اور دل بِگَڑ چکے ہیں جیسے کوئی مریض شہد  کو کڑوا سمجھنےلگے۔(۳)…لوگوں  میں لذت  پہچاننے کی صلاحیت نہیں ہوتی کیونکہ لذت