بعض حالات میں نفع دیتی ہے چنانچہ کہا جاتا ہے کہ جس کی عقل کام نہیں کرتی وہ فائدے میں ہے کیونکہ اسے انجام کا سامنا نہیں کرنا،لہٰذااسے قَبْر وحَشْر کی کوئی فکر نہیں ہوتی حتّٰی کہ موت کا وقت آجاتا ہے۔ بعض عمل کسی اعتبار سےنفع بخش اور کسی وجہ سے نُقصان دہ ہوتےہیں ،جیسے ڈوبنے کا خوف ہو تو مال دریا میں پھینک دینا نقصان دہ ہے لیکن نجات کے اعتبار سے نفع بخش ہے۔
نفع بخش نعمت کی اقسام:
(1)...جس کے بغیر مقصود تک پہنچنا ممکن نہ ہو:جیسے اُخروی سعادت پانے کے لئے ایمان اورحسنِ اخلاق۔ یہاں مراد علم و عمل ہے کیونکہ علم و عمل کے سوا ایمان اورحُسنِ اخلاق کاقائم مقام کوئی نہیں ہو سکتا ۔
(2)...جس کے بغیر مقصود تک پہنچنا ممکن ہو:مثلاً صفراکی بیماری کے خاتمے کے لئے سِکَنْج بِیْن(1) کا استعمال کیونکہ اس کے بغیر دوسر ی چیزوں سے بھی اس بیماری کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔
نعمت کی پانچویں قسم اوراس کی تین اقسام کی وضاحت:
ہر لذیذ شے پر ”نعمت“ کا اطلاق ہوتا ہے۔لذتیں انسان کےساتھ مخصوص ہونےیاانسان اور غیر انسان کے شریک ہونے کےاعتبارسےتین طرح کی ہیں:(۱)…لذّتِ عقلیہ(۲)…خاص لذّتِ بدنیہ جس میں انسان کے ساتھ بعض مخصوص حیوانات شریک ہوتے ہیں(۳)…عام لذّتِ بدنیہ جس میں انسان کے ساتھ تمام حیوانات شریک ہوتے ہیں۔
(1)…لذتِ عقلیہ:
لذت عقلیہ کی مثال علم و حکمت ہے کیونکہ ان دونوں کی لذت کا تعلق سننے، دیکھنے ، سونگھنے اور چکھنے نیز پیٹ اورشرم گاہ وغیرہ سے نہیں بلکہ ان کی لذت کاتعلق دل سے ہے کیونکہ دل جس صفت کے ساتھ خاص ہے اسے عقل کہتے ہیں۔علم و حکمت کی لذت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے لیکن اس کا مرتبہ سب سے اعلیٰ و اشرف ہےاس کی لذت کم لوگوں کو نصیب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ علم سے صرف عالِم ہی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…لیموں یا سرکہ وغیرہ سے تیار شدہ ایک قسم کا مشروب۔