Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
30 - 882
 خالی نہیں حتّٰی کہ حضراتِ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام سے بھی لغزشیں واقع ہو ئیں جیساکہ قرآن کریم اور احادیثِ طیبہ میں ان کی لغزشوں ،ان کی توبہ اورلغزشوں پران کی گریہ وزاری کاتذکرہ ہے۔
	پھراگر بندہ بعض اوقات اعضاء سے گناہ کا اِرتِکاب نہ بھی کرے پھر بھی دل گناہوں کے ارادے سے خالی نہیں ہوتا اور اگر کبھی ان کے ارادے سے خالی بھی ہوتو ذکرُاللہ سے دورکرنے والے مختلف شیطانی وساوس سے خالی نہیں ہوتا، اگر اس سے بھی خالی ہو تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ، اس کی صفات اوراس کے افعال کے علم سے غفلت وکوتاہی سے خالی نہیں ہو تا اور یہ تمام باتیں خرابی ونقص ہیں۔ اس کے بہت سے اَسباب ہیں اور اسباب کی ضدوں میں مشغول ہو کر ان اسباب کو تر ک کرنا ایک راستے سے اس کی ضد کی طرف رجوع کرنا ہے اور توبہ سے مراد بھی رجوع ہے اور ابنِ آدم کے حق میں اس نقص سے خالی ہونامتصور نہیں۔ہاں درجات میں یہ مختلف ہوتے ہیں جبکہ اصل ہر ایک میں لازمی ہوتی ہے۔چنانچہ
دن میں70بار استغفار:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب،دانائے غُیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرما یا:’’اِنَّہ لَیُغَانُ عَلٰی قَلۡبِی حَتّٰی اَسۡتَغۡفِرَ اللہ فِی الۡیَوۡمِ وَالَّیۡلَةِ سَبۡعِیۡنَ مَرَّةً یعنی بے شک میرے دل پر کبھی پردہ آجاتا ہے حتّٰی کہ میں دن اور رات میں 70بار اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے استغفار کرتا ہوں۔‘‘(1)  یوں ہی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِکرام کے لئے ارشاد فرمایا:
لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ (پ۲۶،الفتح:۲)
ترجمۂ کنز الایمان:تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے۔
	جب حُضُورنبیّ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ مُعامَلہ ہے تو دوسروں کا کیا حال ہو گا(جبکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گناہوں سے معصوم ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا استغفار کرنا اُمت کی تعلیم اور درجات کی بلندی کے لئے تھا)۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری ، کتاب الدعوات ، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلة،۴/ ۱۹۰، حدیث : ۶۳۰۷،دون ’’انہ لیغان علی قلبی‘‘
	مسلم، کتاب الذکروالدعاء، باب استحباب  الاستغفار، ص ۱۴۴۹، حدیث : ۲۷۰۲،بتغیرقلیل