نعمت کی چوتھی قسم اور اس کی وضاحت:
یہ قسم تین قسموں پرمشتمل ہے :(۱)…لذیذ(۲)…نفع بخش اور(۳)…جمیل ۔
٭…لذیذ:اس نعمت کوکہتے ہیں جس کافائدہ فورا ًظاہرہو۔٭…نفع بخش:وہ نعمت جو مستقبل میں فائدہ دے۔٭…جمیل:ایسی نعمت ہوتی ہے جو ہر وقت فائدہ پہنچائے۔
مصیبت کی اقسام:
ان تینوں نعمتوں کی طرح مصیبتیں بھی تین طرح کی ہوتی ہیں:(۱)…بد مزہ(۲)…نقصان دہ اور (۳)…دردناک۔
نعمت اور مصیبت کی ان تینوں اقسام کی دو دوقسمیں ہیں:(۱)…مطلق اور(۲)…خاص
(1)...مطلق سے مراد وہ قسم جس میں نعمت یا مصیبت کی تینوں صفات اکٹھی پائی جائیں۔تینوں صفات پر مشتمل نعمت کی مثال ” عِلْم و حِکْمَت “ہے کیونکہ اہْلِ علم کے نزدیک ”علم و حکمت“ لذیذ ، نفع بخش اور جمیل ہے۔ تینوں صفات پر مشتمل مصیبت کی مثال”جہالت“ہے کیونکہ جہالت بد مزہ ،نقصان دہ اوردردناک ہے چنانچہ جاہل شخص جب کسی عالِم کو دیکھتا ہےتواسے جاہل رہنے کی وجہ سے اذیت محسوس ہوتی ہے تو اُسے جہالت کےنقصان دہ اور بدمزہ ہونےکا اندازہ ہوجاتا ہے۔اس کے اندرعلم جیسی لذیذ نعمت کی خواہش اُبھرآتی ہے لیکن حسد،تکبراور نفسانی خواہشات علم حاصل کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔اس وقت دومختلف قوّتیں اسے اپنی طرف کھینچ رہی ہوتی ہیں اور یہ مُعاملہ اس کے لئے سخت درد ناک ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ حُصولِ علم کو ترک کرے تو جہالت اورسخت نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہےاور اگرعلم حاصل کرے تو حسد، تکبر اورخواہشات ترک کرنے سے اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہےچنانچہ ایساشخص مستقل عذاب میں گرفتار ہوکر رہ جاتا ہے۔
(2)...خاص سے مراد وہ قسم جس میں نعمت یا مصیبت کی تینوں صفات میں سے بعض پائی جائیں اور بعض نہ پائی جائیں۔مثلاً:بعض عمل نفع بخش ہونے کےساتھ ساتھ دردناک بھی ہوتےہیں جیسےزائدانگلی کٹوادینا، بدن سے خراب مادہ نکلوا دینا اور بعض چیزیں نفع بخش ہوتی ہیں مگربری سمجھی جاتی ہیں جیسے بے وقوفی