جو ہمیشہ رہے گی، اس نعمت کی طلب کسی دوسرے مقصد تک رسائی کے لئے نہیں ہوتی ۔
٭…وہ نعمت جو کسی غرض کے حُصول کاذریعہ ہو:جیسےسونا چاندی اور روپے پیسے کیونکہ ان سے ضروریاتِ زندگی وابستہ ہیں۔اگر ایسا نہ ہوتا تویہ کنکریوں کی طرح بے قیمت ہوتےمگرچونکہ ان کے ذریعے لذّتیں جلدی حاصل ہوجاتی ہیں لہذا جاہل لوگ لذت کا ”سبب“بننے والی اس نعمت کومطلوب ومقصود سمجھنےلگے،اسے جمع کرکےسودی کاروبار کرنےلگے،اسے ہی منزلِ مقصودسمجھنے لگے جیسا کہ ایک شخص کوکسی سے محبت ہوگئی محبوب کی جانب سےرابطے کا ”سبب“ ایک قاصد تھا لہٰذا محبوب کی وجہ سے وہ قاصد سے بھی مانوس ہوگیا۔رفتہ رفتہ وہ شخص محبوب کو بھولتا گیا اورقاصدسےمحبت کرنے لگا اور مسلسل اس کی دیکھ بھال اورنگرانی میں مصروف رہنے لگا۔عقلمندآدمی اس اقدام کویقیناًانتہائی درجہ کی جَہالت اور بے وُقُوفی کہے گا۔
٭…وہ نعمت جوکبھی ذاتی طورپر مقصود ہو اور کبھی دوسری شے کے حصول کاذریعہ ہو:جیسے صحت و تندرستی کیونکہ یہ بندے کو بارگاہِ الٰہی تک رسائی دلانے والے اعمال بجالانےکا ذریعہ ہےیااس کے ذریعے انسان اپنے دیگر دُنیاوی مُعاملات اَحسن انداز میں نبھاتا ہے۔
یادرہے!کبھی کبھارصحت وتندرستی ذاتی طور پر بھی مقصود ہواکرتی ہے جیسے ایک شخص کے پاس سواری بھی ہے اور تندرست پاؤ ں بھی تو وہ پیدل چلنا پسند نہیں کرتا کیونکہ اس میں پاؤں کےلئےآرام ہے اوراسی کو ذاتی مقصود کہتے ہیں ۔
خلاصَۂ کلام:
نعمت کی ان تینوں اقسام میں ”حقیقی نعمت“ پہلی قسم ہے ۔تیسری قسم بھی نعمت میں شامل ہےمگر پہلی قسم کے مقابلے میں اس کا درجہ کم ہےجبکہ دوسری قسم کی نعمت جیسےسونا چاندی،روپے پیسےوغیرہ حقیقتاً نعمت نہیں ہیں بلکہ وسیلہ بننے کے اعتبار سے نعمت ہیں لہٰذا جو لوگ اپنی ضروریاتِ زندگی ان کے بغیر پوری نہیں کر سکتے ان کے حق میں یہ نعمت شمار ہوں گے مگر جن کا مقصدعلم وعبادت ہواور ان کے پاس بقدرِکفایت ضروریاتِ زندگی موجودہوں ان کےنزدیک روپیہ پیسہ سوناچاندی کا ہونا نہ ہونا برابر ہے بلکہ اگر ان کی موجودگی علم و عبادت میں رکاوٹ بنے تو ان کے حق میں یہ نعمت نہیں مصیبت بن جاتے ہیں ۔