Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
297 - 882
 دشمن خیال کرتاہےاوراگرعقل ہوتی توبچہ سمجھ جاتا کہ ماں غَلَطی پر ہے کیونکہ خون نہ نکلوا کر وہ بڑی بیماری کودعوت دےرہی ہے۔
	اَلْغَرَض!نادان دوست عقل مند دشمن سے بُرا ہوتا ہےاورانسان نفس کودوست بنالیتاہےجو انسان کے لئے نادان دوست  کی طرح ہےاوراسی وجہ سے یہ  انسان کے ساتھ وہ سُلُوک کرتا ہے جو دشمن بھی نہیں کرتا۔
نعمت کی دوسری  قسم:
	دنیاوی نعمتیں مختلف ہیں۔یہ نعمتیں اچھائیوں اوربرائیوں کے ساتھ ملی ہوتی ہیں بہت کم ایسا ہوتاہے کہ انہیں خوبیوں میں شمار کیا جائےمثلاً:مال ودولت،اہل وعیال،اعزوواقرِبا،عزت ومرتبہ یہ سب مختلف قسم کی نعمتیں ہیں۔بعض نعمتوں کےنقصانات کم اورفوائدزیادہ ہیں جیسےبقدرِضرورت مال ودولت اورعزت ومرتبہ۔بعض نعمتوں کےفوائدکم اور نقصانات زیادہ ہیں جیسےضروت سے زائدمال ودولت اورعزت و مرتبہ جبکہ بعض نعمتوں کے فوائدو نقصانات برابر ہیں۔
	ان نعمتوں کے استعمال کرنے میں لوگوں کی عادات مختلف ہیں مثلاً:بہت سےنیک لوگ مال ودولت کی کثرت کے باوُجود اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں چنانچہ وہ اپنی حلال کمائی کوراہ ِخدا اور اچھے کاموں میں خرچ کرکے اُخروی نفع حاصل کرتے ہیں، اچھی جگہ خرچ کرنےکی توفیق ہی ان کے لئے ’’نعمت “ ہے۔بہت سے لوگ تھوڑے مال سے بھی نقصان اٹھاتے ہیں کیونکہ وہ اسے ہمیشہ کم سمجھتےہیں، ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناشکری اور مزید مال کے طالب رہتے ہیں ،ایسے لوگوں کےلئے تھوڑا مال بھی ذلت ورسوائی کاسبب ہوتاہے۔ 
نعمت کی تیسری قسم اوراس کی وضاحت:
	اس قسم  کے تحت نعمت کی تین اقسام ہیں:(۱)…وہ نعمت جوذاتی طور پر مقصود ہو(۲)…وہ نعمت جو کسی غَرَض کے حُصول کاذریعہ بنے(۳)… وہ نعمت جوکبھی ذاتی طورپر مقصود ہواورکبھی  دوسری شےکے حصول کا ذریعہ بنے۔
٭…وہ نعمت جو ذاتی طورپر مقصود ہو:جیسےدیدارِ الٰہی کی  لذت اوراس کی ملاقات ۔یعنی یہ اُخروی نعمت ہے