دلانےوالی اشیاءو افعال ہی کو نعمت کہاجائے خواہ وہ ایک واسطے یاایک سےزائد واسطوں سے اُخروی سعادت تک پہنچائیں چنانچہ انہیں نعمت کہنا اس سبب سے ہے کہ یہ اُخروی سعادت تک پہنچنےکاذریعہ ہیں ۔ نعمتوں کےانہی اسباب واقسام کو ہم مختلف قسموں میں بیان کریں گے۔
نعمت کی پہلی قسم :
انسان چارقسم کے اُمورسےوابستہ ہے:(۱)…دنیا وآخرت دونوں میں فائدہ پہنچانےوالےاُمورجیسے علم اور اچھے اخلاق۔ (۲)…دونوں جہا ں میں نقصان پہنچانےوالےاُمورجیسےجہالت اور بُرےاخلاق ۔(۳)…دنیا میں فائدےکاسبب لیکن آخرت میں نقصان کا باعث بننے والے اُمورجیسےنفسانی خواہشات کی پیروی کرکے لذت حاصل کرنا۔(۴)…دنیامیں مَشَقَّت کاسبب لیکن آخرت میں فائدے کاسبب بننے والے اُمور جیسےنفسانی خواہشات کاقَلْع قَمع کرکےنفس کی مُخالَفَت کرنا۔
خلاصہ یہ ہے کہ دنیا وآخرت دونوں جہاں میں فائدہ پہنچانے والی حقیقی نعمت علم اور اچھے اخلاق ہیں جبکہ دونوں جہا ں میں نقصان پہنچانےوالی حقیقی مصیبت جہالت اوربُرےاخلاق ہیں۔دنیاوی فائدے کاسبب اوراخروی نقصان کاباعث بننے والی اشیاءاہْلِ بصیرت کے نزدیک ”مصیبت وآزمائش‘‘ سمجھی جاتی ہیں لیکن بے بصیرت لوگ اسے نعمت سمجھتے ہیں جیسےبھوکاشخص پتا نہ ہونےکی وجہ سے زہریلے شہد کونعمتسمجھ رہا ہوتا ہے اور جب حقیقت معلوم ہوتی ہے تو جان لیتاہے کہ یہ تواس پر نازل ہونے والی ایک مصیبت ہے۔ دنیا میں مشقت کاسبب لیکن آخرت میں فائدے کاسبب بننے والی اشیااہْلِ بصیرت کے نزدیک ’’نعمتیں“ ہیں جبکہ جاہلوں کےنزدیک ”مصیبتیں“ ہیں جیسےکڑوی دوا کاذائقہ بُرا معلوم ہوتا ہے لیکن اس میں شفاوصحت ہوتی ہے اور ناواقف بچہ اس دوا کو مصیبت سمجھتا ہے جبکہ عقل مند آدمی اسے ”نعمت“ سمجھتا ہےاورمطلوبہ دوا تک رسائی میں جو بھی اس کی مددکرےوہ اس کا احسان مند رہتاہے ۔
یونہی ماں مامتا اور عقل کی کمی کےباعث پچھنےکے ذریعے بچے کا خون نکلوانے نہیں دیتی جبکہ باپ کامل عقل کےسبب نقصان سے واقف ہوتاہےاس لئےخون نکلوانے پرراضی ہوجاتا ہےاوربچہ نادانی کی وجہ سےماں کا احسان مند ہوتاہے اوراس کی ہمدردیوں سے مائل ہوکر اس سے خوش رہتاہےجبکہ باپ کو اپنا