دو بار نظرِ رحمت کا مستحق :
حضرت سیِّدُناسَہل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا فرمان ہے: جو حاکم کے خلاف بغاوت کرے وہ زِنْدیق ہے اور جو حاکم کے بلانے پر جواب نہ دے وہ بِدعتی ہے اور جو بِن بُلائے حاکم کے پاس چلا آئے وہ جاہل ہے۔آپ سے پوچھا گیا: لوگوں میں بہتر کون ہے؟فرمایا: حاکم۔عرض کی گئی:ہم تو حاکم کو سب سے برا جانتے ہیں۔ فرمایا:ایسا نہ کرو!اللہ عَزَّ وَجَلَّاس پر روزانہ دوبارنظَرِرحمت فرماتا ہے :ایکبارمسلمانوں کے اموال اور دوسریباران کی جانوں کی حفاظت کی وجہ سے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب یہ دونوں باتیں اس کے نامہ اعمال میں پاتا ہے تو اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے۔
حضرت سیِّدُناسَہل تُستریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیہی سے منقول ہے کہ حکمرانوں کے دروازوں پر لٹکے سیاہ دُرّے ستر قصہ گو واعظین سے بہتر ہیں۔
دوسرا رکن : کن چیزوں کاشکراداکیاجائے
شکرکاتعلق نعمت سےہے۔اس مقام پر ہم نعمت کی حقیقت، اس کی اقسام اور خاص وعام کو ملنے والی نعمتوں کے مختلف درجات بیان کریں گے۔یقیناً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہرہرنعمت کاشمارناممکن ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعْمَتَ اللہِ لَاتُحْصُوۡہَا (پ۱۳،ابراھیم:۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراگراللہکی نعمتیں گِنو تو شمار نہ کرسکو گے۔
نعمتوں کی حقیقت سمجھنے کےلئےپہلےہم چند بنیادی باتیں پیش کریں گے پھر الگ الگ نعمتوں کا ذکر کریں گے۔درستی کی توفیق دینے والی ذات اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ہے۔
پہلی فصل : نعمتوں کی حقیقت اور اقسام
جان لیجئے!راحت،لذت،سعادت بلکہ ہرمطلوبہ چاہت نعمت ہےمگرحقیقی نعمت اُخروی سعادت ہے۔ اس کے علاوہ دیگراشیاءحقیقی نعمتیں نہیں،مجازی نعمتیں ہیں نیزاُخروی فائدے سےخالی دنیاوی نعمتوں کو نعمت کہناغَلَط ہےالبتہ بعض دنیاوی اشیاء کو نعمت کہہ سکتے ہیں لیکن زیادہ بہتر یہی ہے کہ اُخروی سعادت