Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
294 - 882
 مخلوق کی اصلاح فرماتا ہے اور ان میں جو جتنی زیادہ اپنی اور عوام کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے اس کا مقام اتنا بلند ہے۔ ان کے بعد عادل سلاطین و حکمرانوں  کا درجہ ہے کیونکہ یہ دنیاوی اعتبار سے عوام کی اصلاح اسی طرح کرتے ہیں جس طرح علما ان کے دین میں ان کی اصلاح کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت سیِّدُنامحمدمصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہعَزَّ وَجَلَّنے دین اورسلطنت(1) دونوں سے نوازا اور ہمارے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سلطنت تمام انبیا کی سلطنت سے افضل ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ذریعے دین ودنیا کے اصلاح کی تکمیل فرمائی اورانبیا میں سے صرف آپ کو کفار پر جہاد اور تمام مخلوق پر سرداری جیسی نعمت عطا کی(2)۔
		خبردار! حاکم سے ہی دین قائم رہتا ہے وہ اگرچہ فاسق ہو لیکن اسے برا بھلا نہیں کہنا چاہئے۔
ظالم حکمرانوں  کے متعلق دوروایات:
	(1)…حضرت سیِّدُنا عَمْر وبن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: ظالم حکمران دائمی فتنہ سے بہتر ہے۔
	(2)…سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: عنقریب تم پر ایسے حکمران مقرر کئے جائیں گے جن کی بعض باتیں تمہیں اچھی لگیں گی اور بعض بری۔وہ زمین میں فساد پھیلائیں گے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کے فساد سے زیادہ اُن کے ذریعے دین کو قوت عطا فرمائے گالہٰذا اگر وہ تم سے اچھا برتاؤ کریں تو ان کے لئے اجر ہے اور اس وقت تم پر شکر لازم ہے اور اگر بُرا برتاؤ کریں تو وہ گناہ گار ہوں گے اور اس وقت تمہیں چاہئے کہ صبر کرو۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سلطنت تمام انسانوں کو شامل ہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تمام بنی نوع انسان کے لئے نبی بناکر بھیجا۔اللہعَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ ترجمۂ کنز الایمان:اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے۔(پ۲۲،سبا:۲۸)   
2…مفسرِشہیر،حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد1،صفحہ78پرفرماتے ہیں:اگرچہ بعض پچھلی شریعتوں میں بھی جہادتھامگراسلامی جہاداوراس کے قوانین حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)سے شروع ہوکرقتل دجال تک رہیں گے۔ 
3… شعب الایمان ، باب فی طاعة  اولی الامر، فصل فضل الامام العادل ،۶/ ۱۵، حدیث : ۷۳۶۸،بتغیر