Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
293 - 882
 روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”تم مجھے کافر کہو۔“
	عِلْمِ مُکاشَفہ کی اس بحث کو یہیں ختم کردیتے ہیں جو غیر اختیاری طور پر کافی طویل ہوگئی اور علم مُعاملہ کے ساتھ مل گئی ہے حالانکہ علِم مُعاملہ سے اس کا تعلق نہیں لہٰذا  اب ہم واپس شکر کے مَقاصِد کی طرف آتے  ہیں۔جب شکر کی حقیقت کے بارے میں معلوم ہوگیا کہ بندے کا ایسا عمل کرنا جس سے حکمَتِ الٰہیہ کی تکمیل ہو یہی شکر ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا محبوب ترین اور اس کے سب سے قریب وہی بندہ ہوگا جو سب سے زیادہ شکرگزار ہو اور اس کی مخلوق میں اس کے سب سے قریب فرشتے ہیں(1) اور ان میں بھی ترتیب وار ہرایک کا مخصوص مقام ہے اور فَرشتوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا سب سے زیادہ قُرب حضرت سیِّدُنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام(2)کو حاصل ہے۔فَرِشتوں  کے اس بلند مقام کا سبب ان کی ذاتی شرافت و فرمانبرداری ہےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے ذریعے انبیا تک لوگوں کے لئے ہدایت پہنچائی۔فرشتوں کے درجے سے قریب تر درجہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکا ہے جو زمین میں سب سے افضل اور برگزیدہ  ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے ذریعے تمام مخلوق کو ہدایت دی  اور اپنی حکمت کومکمل کیا۔ان میں سب سے بڑا مرتبہ ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ہے کہ آپ کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے دیْنِ اسلام کو مکمل فرمایا اور آپ پر سلسلَۂ نَبُوت کو ختم کیا ۔ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکے بعدعلماافضل ہیں کہ وہ انبیاکے وارث اورنیک پرہیزگارہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّان کے ذریعے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یہ اہْلِ سنت میں سے بعض اُن علما  کا مذہب ہے جو ملائکہ کو انبیا سے افضل قرار دیتے ہیں(افضل کے یہ معنیٰ ہیں کہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یہاں زیادہ عزت و منزلت والا ہو۔بہارشریعت،۱/ ۲۴۷)۔امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیکا یہ فرمانا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بھی یہی موقف ہے۔چنانچہ اسی بات کی طرف علامہ سیّد محمد مرتضٰی زَبیدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اتحاف السادۃ المتقین،جلد13،ص413پراشارہ فرمایا۔جمہوراہْلِ سنت کا مذہب یہ ہے کہ انبیا ملائکہ سے افضل ہیں اور  اس بات میں کسی کا اختلاف نہیں کہ حُضور خَاتَمُ النَّبِیِّیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام مخلوق سے افضل ہیں۔ )الحبائک فی اخبار الملائک ،خاتمة فی مسائل منثورة  ،مسالة  فی التفضیل بین الملائكة والبشر،ص۲۰۳(
2…علامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی”شرح فقہ اکبر“میں فرماتے ہیں :ملائکہ میں افضل جبریل عَلَیْہِ السَّلَامہیں ۔(شرح الفقہ الاکبر،ص ۱۱۸مطبوعہ قدیمی کتب خانہ )”طبرانی کبیر“میں حضرت سیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:” کیا میں تمہیں ملائکہ میں سب سے افضل کے بارے میں نہ بتاؤں؟“(پھر خود ہی ارشاد فرمایا:)”وہ جبریل عَلَیْہِ السَّلَامہیں۔“(المعجم الکبیر،۱۱/۱۲۹،حدیث:۱۱۳۶۱)