والے اور اشیاء کی حقیقتوں کو پہچاننے والے علما بھی ہیں جو اپنی نگاہِ بصیرت سے ہرانسان کے سر پر آسمان سے لٹکنے والے مکڑی کے جالے کی طرح بلکہ اس سے بھی باریک کثیر دھاگوں کو دیکھ رہے ہیں جبکہ یہ دھاگے اس قدر باریک ہیں کہ ظاہری نگاہ سے انہیں دیکھنا ممکن نہیں اس کے باوجود علمائے راسخین نہ صرف ان دھاگوں کا مشاہدہ کررہے ہیں بلکہ جہاں سے یہ دھاگے لٹک رہے ہیں اُس بلند مقام کو بھی ملاحظہ کر رہے ہیں اور آسمانوں پر نگہبان جن فَرِشتوں کے قبضے میں یہ دھاگے ہیں ان کا بھی مشاہدہ کررہے ہیں اور یہ فرشتے ہروقت حاملیْنِ عرش فَرِشتوں کی طرف متوجہ رہتے ہیں تاکہ رب تعالیٰ کی بارگاہ سے ان حاملیْنِ عرش فرشتوں کے ذریعے ان کے لئے جو بھی حکم آئے اس پر عمل کرنے میں کسی قسم کی تاخیر یا نافرمانی نہ ہو۔ ان علما ئے راسخین کے مشاہدات کا تذکرہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس طرح فرمایا:
وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲) (پ۲۶، الذٰریٰت: ۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔
اور آسمانوں پر نگہبان جو فرشتے رب تعالیٰ کے حکم کے منتظر ہیں ان کا ذکر قرآن پاک میں یوں فرمایا گیا:
خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیۡنَہُنَّ لِتَعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ۬ۙ وَّ اَنَّ اللہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عِلْمًا﴿۱۲)٪ (پ۲۸، الطلاق: ۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:(اللہ ہے جس نے )سات آسمان بنائے اور انہی کے برابر زمینیں، حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے اور اللہ کا علم ہرچیز کو محیط ہے۔
یہ وہ اُمورِالٰہیہ ہیں جن کا ٹھیک پہلو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے بتائے سے علمائے راسخین ہی جانتے ہیں جیساکہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: ”علمائے راسخین کو وہ علوم حاصل ہوتے ہیں جن تک عام لوگوں کی رسائی ممکن نہیں۔“
یہی وجہ ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں کے سامنے یہ آیتِ مُبارَکہ : یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیۡنَہُنَّ (1)
تلاوت فرمائی تو فرمایا: ”اگر میں اس آیت کا وہ معنیٰ بیان کروں جو میں جانتا ہوں تو تم مجھے پتھر مارو۔“ ایک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ترجمۂ کنز الایمان:حکم ان کے درمیان اترتا ہے۔(پ۲۸، الطلاق: ۱۲)