انسانی اَفعال عوام کی نظر میں:
انسان کو کسی بھی فعل کی نسبت اپنی طرف نہیں کرنی چاہئے، جب بھی تم کسی فعل کی نسبت اپنی طرف کرو گے اس وقت تم صریح غَلَطی پر ہوگے کہ دلوں کو پھیرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے جو نافرمان وبدبخت شخص کا دل ناپسندیدہ افعال کی طرف مائل کردیتا ہے اور محبوب وفرمانبردار شخص کو پسندیدہ افعال کی طرف متوجہ کردیتا ہے اور یہی اس کا کامل عدل ہے۔پھر جہاں تک اس کے عدل کا تعلق ہے تو کبھی وہ تمہارے بغیر ہی مکمل ہوجاتا ہے اور کبھی اس کے عدل کا تعلق تم سے ہوتا ہے کیونکہ تمہاری ذات، تمہارا دل، تمہاری طاقت، عِلْم، عمل اور تمہاری تمام حرکات وسَکَنات درحقیقت اسی کی عطا ہیں جنہیں اس نے عدل وانصاف سے ترتیب دیا جس کی بدولت تم سے اچھے اعمال صادر ہوتے ہیں لیکن تمہاری نظر اپنی ہی ذات کی طرف ہوتی ہے لہٰذا بظاہر جو اعمال تم سے صادر ہوتے ہیں ان کے حقیقی خالق کے بجائے انہیں اپنی طرف منسوب کردیتے ہو۔ گویا تمہاری مثال اس بچے کی سی ہے جو پردے کے پیچھے چُھپے شُعْبَدہ باز کے کَرتَب دیکھتا ہے کہ کچھ پُتْلِیاں ناچتی، اُچھلتی کودتی دکھائی دیتی ہیں، یہ پتلیاں بناوٹی ہوتی ہیں جو خود حرکت نہیں کرتیں بلکہ بال کی طرح باریک، رات کی تاریکی میں نظر نہ آنے والے دھاگے کی مدد سے حرکت کرتی ہیں، اس دھاگے کا سرا شعبدہ باز کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو بچوں کی نگاہوں سے چھپا ہوتا ہے، بچے اسے دیکھ کر خوش ہوتے اور حیرت کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں یہ اچھل کود پتلی خود کرتی ہے جبکہ سمجھ بوجھ رکھنے والے حضرات جانتے ہیں کہ انہیں حرکت دینے والا کوئی موجود ہے اور بعض تو اس کی کچھ تفصیل بھی جانتے ہیں لیکن وہ بھی اتنا نہیں جانتے جتنا شُعْبَدہ باز خود جانتا ہے کہ یہ اس کے اپنے ہاتھ کا کام ہے۔
اشیاء کی حقیقتوں سے علمائے راسخین ہی واقف ہیں:
عام دنیادار،علمائے کرام کے مقابلے میں بچوں کی طرح ہیں کہ لوگوں کو حرکت کرتا دیکھ کر گمان کربیٹھتے ہیں کہ یہ خود حرکت کررہے ہیں لہٰذا لوگوں کے افعال کی نسبت انہی کی طرف کردیتے ہیں جبکہ علما حضرات جانتے ہیں کہ لوگوں کی حرکات اور ان کے افعال کا خالق کوئی ہے اگرچہ وہ اس عمل کی حقیقت سے واقف نہیں اور اکثر کا حال ایسا ہی ہے لیکن انہی میں اپنے علم پر عمل کرنے والے، تقوٰی پرہیزگاری اپنانے