Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
290 - 882
 اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک مثال بیان فرمائی کہ جنوں اور انسانوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے(1) اور بندوں کے حق میں ان کی عبادت ہی ان کے پیدا کئے جانے کی حکمت کی انتہا و غایت ہے۔ اس نے اپنے دو بندوں کے بارے میں خبر دی جن میں سے ایک کو وہ پسند کرتا ہے جس  کا نام ”جبریل“ہے جنہیں  روحُ القُدس اور امین بھی کہاجاتا ہے، آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، فرمانبردار اور امانت دار ہیں۔ دوسرے کو وہ ناپسند کرتا ہے جس کا نام”ابلیس“ہےجو اس کی بارگاہ سے دُھتکارا گیا ہےاور اسے مُقَرَّرَہ وقت  تک مہلت ہے۔پھر اس نے ہدایت (یعنی وحیِ الٰہی پہنچانا)حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے سپرد کیا چنانچہ ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ نَزَّلَہٗ رُوۡحُ الْقُدُسِ مِنۡ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ (پ۱۴، النحل: ۱۰۲)
ترجمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ اسے پاکیزگی کی روح (یعنی حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام) نے اتارا تمہارے رب کی طرف سے ٹھیک ٹھیک۔
	اور فرماتا ہے :  یُلْقِی الرُّوۡحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ (۲۴، المومن: ۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان: ایمان کی جان(یعنی) وحی ڈالتا ہے اپنے حکم سے  اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے۔
	اور لوگوں کو گمراہ وہدایت سے دور کرنا ابلیس کے سپرد کیا جیساکہ  اس کا رشاد ہے :
لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ (پ۲۳، الزمر: ۸)
ترجمۂ کنز الایمان: تاکہ اس کی راہ سے بہکادئے۔
	گمراہ کرنے سے مراد بندوں کو حکمت کی غایت و انتہا تک پہنچنے سے روکنا ہے اور ہدایت دینے سے مراد بندوں کو حکمت کی غایت و انتہا تک پہنچانا ہے،لہٰذا جان لو کہ اس نے گمراہی کو اپنے نافرمان وناپسند بندے کی طرف منسوب کیا اور ہدایت کو اپنے محبوب وفرمانبردار بندے کی طرف منسوب کیا ۔
	انسانوں کے باہمی معاملات میں اس مثال کو یوں سمجھو کہ بادشاہ کو پانی پینے، حجامت بنوانے اور محل کی صفائی وغیرہ کے لئے اگر بندوں کی حاجت ہو اور اس کے پاس دو غلام ہوں تو ان میں سے جو کمتر ہوگا بادشاہ حجامت اور صفائی کا کام اسی سے لے گا اور خوبصورتی اور عقل کے اعتبار سے جو زیادہ بہتر ہوگا اوربادشاہ کو پسند ہوگا اسے پانی وشربت وغیرہ پلانے پر مامور کرے گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… (پ۲۷، الذٰریٰت: ۵۶)