خواہش عقل پر سبقت رکھتی ہے:
ہر آدمی کی شہوت و خواہش عقل پر سبقت رکھتی ہے اوراس کی وہ فطرت جو شیطان کا حصہ ہے اس فطرت پر مقدم ہوتی ہے جو فرشتوں کا حصہ ہے،لہٰذا جو اَفعال خواہشات کے سبب سرزدہوئے ہوں ان سے رُجُوع کرنا ہر انسان کے ذِمَّہ لازِم ہےخواہ وہ کو ئی بھی ہو۔پس تم ہر گز یہ گمان نہ کرنا کہ توبہ کا لازم ہونا حضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص ہے ۔کسی نے صحیح کہا ہے:
فَلَا تَحْسَبَنَّ ھِنْدًا لَھَا الْغَدْرُ وَحْدَھَا سَجِیَّةُ نَفْسٍ کُلُّ غَانِیَةٍ ھِنْدٌ
ترجمہ:ہرگز گمان نہ کرنا کہ ہند (نامی عورت) ہی دھوکے باز ہے بلکہ ہر پیکرِ حسن وجمال عادت میں ہند جیسی ہی ہے۔
بلکہ یہ ایک ازلی حکم ہے جو جِنْسِ انسانی پر لکھ دیا گیا، اس کا خلاف اس وقت تک فر ض نہیں کیا جاسکتا جب تک دستورِالٰہی نہیں بدلتا اوراس میں تبدیلی کا تصور بھی نہیں تو ہر وہ شخص جوحالَتِ کُفر اور جہا لت میں بالغ ہوا اس پر اپنے کفر اور جہالت سے توبہ واجب ہے اور اگر والدین کے تابع ہو نے کے سبب مسلمان بالغ ہوا مگر اپنے اسلام کی حقیقت سے غافل ہو تو اُس پر اِس غفلت سے تو بہ کرنا اور اسلام کا معنی ومفہوم سمجھنا لازم ہے کیونکہ جب تک خود سے اسلام نہیں لائے گا والدین کا اسلام اسے بے پروا ومستغنی نہیں کرے گا اور اگر وہ یہ سب سمجھتا ہو تو اُس پرلازم ہے کہ خواہشات کی لَتْ اوران میں انہماک سے رجوع کرے،دوبارہ ان کی طرف نہ جائے اور رُخْصَت ومُمانَعَت میں وارِدحُدُودِ اِلٰہی کی حقیقی روح پر قائم رہے۔ خواہشات کوپَسِ پُشْت ڈال کر ان سے رُکے رہنا توبہ کےدوازوں میں سے سخت تر دروازہ ہے۔اکثر لوگ اسی معاملہ میں ہلاکت سے دوچار ہوئے کیونکہ وہ اس مرحلے پرثابت قدمی سے عاجز رہے اور ان سب کا نام رجوع اورتوبہ ہے۔
پس یہ دلیل ہے کہ توبہ ہر شخص کے حق میں فرضِ عین ہے۔کسی بھی فردِ بشرکا اس سے بے نیا ز ہو نا متصور نہیں جیساکہ حضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس سے مُسْتَغْنِی نہ ہوئے۔ توجس معاملہ کی گنجائش والد کی خلقت میں نہ ہو اولا د کی خلقت میں کیونکر ہوگی؟
توبہ کے دائمی وُجُوب کا بیان:
توبہ کے دائمی اور ہر حال میں واجب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی بندہ بشراعضاء کی لغزشوں سے