کرسکیں جیساکہ چمگادڑیں سورج کے طلوع وغروبِ کے وقت کی ہلکی سی روشنی سے فائدہ حاصل کرتی ہیں اور اسی میں نکلتی ہیں، دن میں سورج کی روشنی میں نکلنے کی ان میں طاقت نہیں۔ اور ان لوگوں کی طرح ہوجاؤ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے:
شَرِبْنَا شَرَابًا طَیِّبًا عِنْدَ طَیِّبٍ کَذَاکَ شَرَابُ الطَّیِّبِیْنَ یَطِیْبُ
شَرِبْنَا وَاَھْرَقْنَا عَلَی الْاَرْضِ فَضْلَہٗ وَلِلْاَرْضِ مِنْ کَاْسِ الْکِرَامِ نَصِیْبُ
ترجمہ:(۱)… ہم نے مل کر پاکیزہ شراب پی اچھوں کی شراب اسی طرح پاکیزہ ہوا کرتی ہے۔
(۲)…پینے کے بعد بچی ہوئی ہم نے زمین پر بہادی، عزت دار لوگوں کے پیالوں سے زمین کو بھی حصہ ملتا ہے۔
یہی تقدیر و قضا ہے اسے تم اسی وقت سمجھ سکتے ہو جب اس کے اہل ہو اور جب تم اس کے اہل ہوجاؤ گے اس وقت تمہاری آنکھیں روشن ہوجائیں گی اور راستہ تم پر واضح ہوجائے گا پھر تم کسی کے محتاج نہ رہو گے اور نابینا شخص ہر وقت کسی کا محتاج ہوتا ہے حالانکہ ایک وقت تک ہی وہ کسی کی راہ نمائی لے سکتا ہےلہٰذااگر راستہ تنگ ہو تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہوجسے پرندہ ہی پار کرسکتا ہو تو اندھے کے لئے ممکن نہیں کے وہ پرندے کے پیچھے چلتے ہوئے راستہ پار کرلے یونہی جب خشک راستہ تنگ ہو اور والاپانی گہرا ہو تو اسے تیر کر ہی پار کیا جاسکتا ہے اور گہرا پانی ماہر تیراک خود تو پار کرسکتا ہے لیکن کسی اور کو پار نہیں کراسکتا ۔ اسی طرح قضا و قدر کے معاملات ہیں کہ ان کا علم رکھنے والے اور عام آدمی کے درمیان اتنا ہی فرق ہے جتنا پانی پر چلنے والے اور زمین پر چلنے والے کے درمیان ہے کہ پانی میں تیرنا تو سیکھا جاسکتا ہے لیکن پانی میں چلنا کسی سے نہیں سیکھا جاسکتا بلکہ جس کا یقین پختہ ہو اسی کو یہ فَن حاصل ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے جب بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ پانی پر چلتے تھے تو آپصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا:” اگر ان کا یقین اس سے زیادہ ہوتا تو وہ ضرور ہوا میں بھی پرواز کرتے۔“(1)
اب تک کی تمام بحث کراہت، مَحبت، رضا، غضب، شکر اور ناشکری کا مفہوم سمجھنے کے لئے رُموز واشارات ہیں ان کے سمجھنے کے لئے عِلْمِ مُعاملہ کافی نہیں۔ مخلوق پر ان کا سمجھنا آسان ہوجائے اس کے لئے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الزھد الکبیر، ص ۳۵۷، حدیث : ۹۷۶