پلک مارنا بلکہ اس سے بھی کم ۔اسی قضاکے مطابق دنیاوی معاملات و احکامات جاری ہیں اور ان کے اسی طرح ترتیب وار بغیر کسی تغیر کے جاری ہونے کو ”تقدیر“ کہتے ہیں۔
گویا لفظ ”قضا“ ایک اَمْرِکلی(موجودات کے متعلق ازل سے اَبَد تک کے علم) کے لئے بولاجاتا ہے اور اس کے مقابلے میں لفظِ”تقدیر“میں (قضا) کی وہ تمام وسیع تفصیلات جمع ہیں جس کا سلسلہ نا ختم ہونے والا ہے ۔
ایک قول یہ ہے کہ ہرشے قضا اور تقدیر کے تحت داخل ہے۔لہٰذا بعض عابدین کو یہ وہم ہوا کہ قسمیں بیان کرنے اور اس تفصیل کی کیا ضرورت ہے اور اس قدر تفصیل اور تفاوت کے بعد عدل کیسے قائم کیا جاسکتا ہے؟ جبکہ بعض لوگ اپنے فہم کی کمی کی وجہ سے تقدیر کی حقیقت کا مشاہدہ کرنے اور اس کا احاطہ کرنے سے عاجز ہیں تو انہیں اس بارے میں کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے اور گویا انہیں کہا گیا کہ تقدیر کے متعلق کلام نہ کرو کیونکہ تمہیں اس لئے پیدا نہیں کیا گیا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳) (پ۱۷، الانبیاء: ۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اس سے نہیں پوچھاجاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہوگا۔
اور جن کے دلوں کے چراغ زمین و آسمانوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پھیلے ہوئے نور سے خوب روشن ہیں، ان کے دل اگرچہ پہلے ہی شیطانی وسوسوں سے محفوظ اور نورِالٰہی سے روشن تھے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَنوار وتجلیات کی مزید بارشوں سے ان کے قلوب مزید روشن ہوگئے اور وہ اس مرتبے پر فائز ہوگئے کہ عالَمِ مَلَکُوْت ان پر ظاہر ہوگیا اور اشیاء کی حقیقت ان پر واضح ہوگئی۔ پھر انہیں کہا گیا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے احکامات کے پابند رہو، خاموشی اختیار کرو اور تقدیر کے متعلق گفتگو نہ کرو(1) کیونکہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں اور تمہارے درمیان کمزور بصیرت والے عام لوگ بھی ہیں تو عام لوگوں کی طرح زندگی بسر کرو اور چَمگادڑ کی مثل ان کمزور بصیرت والوں کے سامنے سورج کی روشنی ظاہر نہ کرو کہ روشنی ان کی ہلاکت کا سبب ہے۔ خود کواللہ عَزَّ وَجَلَّکے پسندیدہ اخلاق سے مُزَیَّن کرو اور تجلیاتِ الٰہیہ کے سبب تم جس بلندی پر ہو اس سے نیچے اترو تاکہ عام لوگ تم سے ملنے میں جھجک محسوس نہ کریں اور تمہارے اندر چھپے نورِالٰہی کی روشنی سے فیض حاصل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… المعجم الکبیر،۲/ ۹۶،حدیث : ۱۴۲۷