Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
287 - 882
 کے لئے ان اَفعال کے اسباب اور ان پر اُبھارنے والی اشیاء مہیا کردی جاتی ہیں اور یہ تمام ان کے حق میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قہر  ہوتا ہے۔ بعض بندے وہ ہیں جن کے متعلق مَشِیَّتِ اَزَلی یہ ہوتی ہے کہ ان سے افعال کروائے جائیں جن میں سے بعض حکمت کی غایت تک پہنچنے والے ہوں۔ ان دونوں فریقوں کے افعال کا مَشِیَّت سے ایک خاص تعلق ہوتا ہے جسے حکمت کی غایت تک پہنچنے والے افعال کرنے والوں کے لئے لفظ”رضا“سے بطورِمجازتعبیرکیاجاتاہے اورغایت تک نہ پہنچنے والے افعال کرنے والوں کے لئے لفظ”غضب“ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جس پر اَزَل میں رب تعالیٰ کا غضب ہو اسی سے ایسے افعال صادر ہوتے ہیں جو حکمت کی غایت تک نہیں پہنچتے۔اس کے ان افعال کو ”ناشکری“ کہا جاتا ہے اور اس سے ایسے بےشمار اَفعال سرزد ہوتے ہیں تاکہ اس کا عذاب سخت ہو اور جس سے ازل میں ربّعَزَّ  وَجَلَّ راضی ہوگیا اس سے حکمت کی غایت تک پہنچنے والے افعال صادر ہوتے ہیں۔اس کے ان افعال کو ”شکر“ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کی خوب تعریف کرکے اس کے درجے کو مزید بلند کیا جاتا ہے۔
حاصِلِ کلام:
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ خود ہی نیک اعمال کی توفیق عطا فرماتا ہے اور خود ہی تعریف بھی کرتا ہے اور برائی پر قدرت بھی دیتا ہے اور اس پر مَذمَّت بھی فرماتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی مالک اپنے غلام کا میل اچھی طرح سے دور کرے، اسے اچھے کپڑے پہنائے جب اسے خوب تیار کرلے پھر کہے: ”اے حسین انسان! تیرا چہرہ اور تیرے کپڑے کس قدر حسین ہیں۔“ کہ خود تیار کرنے پر اس کے حسن کی تعریف کرنا درحقیقت اپنی ہی تعریف ہے اور غلام تو بس اس کا ظاہری سبب ہے۔ 
قضاوتقدیر:
	دنیاوی تمام معاملات اَزَل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عِلْم میں اسی ترتیب سے ہیں جس طرح آج رُونُما ہورہے ہیں پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت اور اس کے حکم ہی سے ان کے اسباب اور نتائج ترتیب پاتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ان تمام معاملات کا علم اتفاقی طور پر نہیں بلکہ اس کے ارادے سے ہے، اس کی حکمت بھی ہے اور یہ سچا اور اَٹل اَمْر ہے جس کے لئے ”قَضَا “ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور یہ بات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ایسے ہے جیسے ایک