سہی۔ انہوں نے لَفْظِ”قدرت“ کو اس صِفَت کے لئے بطورِ مجاز استعمال کیا اس کے بعد سے ہم بھی کہنے لگے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک صفت قدرت ہے جو اشیاء کی پیدائش و ایجاد کا ذریعہ ہے۔
پھر وجود کے اعتبار سے مخلوق کی بہت سی اقسام اور مخصوص صفات ہیں اور ان اقسام اور مخصوص صفات کا سبب ایک دوسری صفت ہے اور چونکہ یہ بھی پہلی(یعنی صِفَتِ قدرت) کی طرح ہے اس لئے لفظ ”مَشِیَّت“ بطورِمجاز استعمال کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اہْلِ لُغات اس صفت کو بھی اجمالاً ہی سمجھ سکے کیونکہ وہ لفظوں کے معانی حُروف و آواز کے ذریعے سمجھتے ہیں۔ لفظِ مشیت اس صفت کی حقیقت وجلالتِ کُن پر دلالت سے اسی طرح قاصر ہے جیساکہ لفظِ قدرت پہلی صفت کی حقیقت بیان کرنے سے قاصر ہے۔
صِفَتِ قُدرت و مَشِیَّت اور اَفعال کا باہمی تعلق :
صِفَتِ قدرت سے وجود میں آنے والے افعال میں سے بعض اپنی حکمت کی غایت و انتہا تک ترتیب پاتے ہیں اور بعض غایت تک نہیں پہنچ پاتے لیکن ہر ایک کا تعلق صِفَتِ مَشِیَّت سے یوں ہوتا ہے کہ ہرفعل اپنی اس خصوصیت کے اعتبار سے مکمل ہوتا ہے جس سے اَفعال کی مختلف اقسام ترتیب پاتی ہیں۔ ان اَفعال کا صِفَتِ مَشِیَّت سے جو تعلق ہے اسی بنا پر حکمت کی غایت تک پہنچنے والے افعال کو ”محبوب و پسندیدہ“ افعال کہا جاتا ہے اور جو غایت تک نہیں پہنچ پاتے انہیں ”مکروہ وناپسندیدہ“ کہا جاتا ہے۔ ان اَفعال کو پسندیدہ و ناپسندیدہ کہے جانے کے متعلق ایک قول یہ بھی ہے کہ صِفَتِ مَشِیَّت کے تحت تو دونوں طرح کے افعال داخل ہیں یا اس سے تعلق تو دونوں کا ہے لیکن انہیں پسندیدہ وناپسندیدہ کہنے کی وجہ کوئی خاصیت ہے جو کہ دونوں میں مختلف ہے۔ جو لوگ معانی و مَفاہِیْم سمجھنے میں لُغات و ظاہری لفظوں کے محتاج ہیں ان پر لفظ محبت و کراہیت کے سبب ان افعال کا مفہوم کچھ واضح ہوگیا ہوگا۔
بندوں کی مختلف اقسام:
صِفَتِ قدرت کے سبب وجود میں آنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں میں سے بعض وہ ہیں جن کے متعلق مَشِیَّت اَزَلی یہ ہوتی ہے کہ ان سے ایسے افعال کروائے جائیں جو حکمت کی غایت تک نہ پہنچتے ہوں۔ ان