Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
285 - 882
 افعال دو طرح کے ہیں بعض افعال حکمت کی تکمیل اوراس کے مقصود تک پہنچانے کا سبب ہیں اور بعض اس کی تکمیل میں رُکاوٹ ہیں۔ جو اَفعال حکمت کے تقاضوں کے موافق ہوتے ہیں حتّٰی کہ ان ہی کے سبب وہ مکمل ہوتی ہے وہ ”شکر“ کہلاتے ہیں اور جو اس کے تقاضوں کے خلاف اور اس کی تکمیل سے مانع ہوتے ہیں وہ”ناشکری  اور کُفرانِ نعمت“ کہلاتے ہیں۔سارے کلام کا مفہوم یہی ہے جس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بندوں کے تمام افعال چاہے حکمت کو پورا کرنے والے ہوں یا اس کی تکمیل سے مانع، دونوں ہی کا خالق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے تو پھر بندے کو ایک کے اعتبار سے ”شاکر“ اور دوسرے کے اعتبار سے ”ناشکرا“ کیوں کہا جاتا ہے؟
	جواب: جان لیجئے!اس معاملے کی مکمل تحقیق انتہائی دَقیق اور عُلومِ مُکاشَفَہ کا عظیم سمندر ہے۔ ہم نےگزشتہ بحث میں چند ابتدائی باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے ابھی اس کی انتہا اور غایت کے اعتبار سے مختصر کلام ذکر کرتے ہیں جسے وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو ولایت کے اس مقام پر ہو کہ پرندوں کی بولی سمجھتا ہو اور عام آدمی جس کی یہ حالت ہو کہ عالَمِ مَلَکُوْت میں پرندوں کے گِرد اُڑنا تو دَرکِنار وہ تیز چل نہیں سکتا ایسا شخص تو اس کلام کا انکار ہی کرے گا۔
صِفَتِ قُدرت و مَشِیَّت کی حقیقت:
	بات یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بلند رتبہ اور اعلیٰ صِفات میں سے ایک صِفَت اشیاء کی پیدائش و ایجاد کا ذریعہ ہے، یہ صفت بہت بلند و بالا ہے اس بات سے کہ لُغَت وَضْع کرنے والوں کی آنکھیں اس کا اِحاطہ کرسکیں اور اس کی حقیقت و جلالتِ کُن کو لفظوں میں بیان کرسکیں کیونکہ اس کی شان بہت بلند ہونے اور لغت وضع کرنے والوں کی عقل اس تک پہنچنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے ظاہری دنیا میں کوئی ایسا لفظ ہی نہیں جس سے اس کی حقیقت کو بیان کیا جائے۔ لغت وضع کرنے والوں کی آنکھیں فضا میں پھیلی اس کی روشنی کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتیں جیسے چَمگادڑ کی آنکھ سورج کی روشنی دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی اور دکھائی نہ دینا یہ سورج کی روشنی کم ہونے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کی اپنی بینائی کمزور ہونے کی وجہ سے ہے۔جن لوگوں کی آنکھیں اس بلند رتبہ صفت کا مشاہدہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں وہ کسی لفظ کے بطورِ مجاز استعمال کرنے پر اہْلِ لُغات کے اسرار پر مجبور ہوئے تاکہ اس صفت کی حقیقت سے کچھ آگاہی حاصل ہو اگرچہ انتہائی کمزور ہی