Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
284 - 882
اِنۡ یَّسْـَٔلْکُمُوۡہَا فَیُحْفِکُمْ تَبْخَلُوۡا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَکُمْ ﴿۳۷) (پ۲۶، محمد: ۳۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اگرانہیں(یعنی اموال کو)تم سے طلب کرے اورزیادہ طلب کرے تم بخل کروگے اوروہ بخل تمہارے دلوں کے میل ظاہر کردے گا۔
	اچھائی جو کَدورت سے پاک ہو اور عدل جس میں ذَرّہ برابر ظلم نہ ہو وہ یہ ہے کہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مال میں سے مسافر کی طرح ضرورت کے مطابق ہی لے کیونکہ ہر بندہ اپنے جسم پر سوار ہے اور اس کی منزل مالِکِ حقیقی کی بارگاہ میں حاضری ہے۔ لہٰذا  جو شخص ضرورت سے زیادہ مال جمع کرے اور راہِ آخرت کے مسافروں میں سے جسے اس کی حاجت ہو اس پر خرچ نہ کرے یہی ہے ظالم، عدل سے روگردانی کرنے والا، حکمت کے مقصود کو فوت کرنے والا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت کا منکر ہے اور اس پر قرآن وحدیث ، عقل اور وہ تمام اسباب دلالت کرتے ہیں جن کے ذریعے جاننا ممکن ہے کہ ضرورت سے زیادہ مال جمع کرنا مسافر کے لئے دنیا و آخرت میں وبال ہے۔ 
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمام موجودات میں جو حکمتیں رکھی ہیں جو شخص انہیں سمجھ لے وہی صحیح طرح سے شکر ادا کرسکتا ہے اور ان کا شمار کرتے ہوئے کئی جلدیں بھردینا بھی بہت کم ہے لہٰذا ہم نے چند حکمتیں صرف اس لئے بیان کی ہیں تاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےاس  فرمان: وَ قَلِیۡلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ ﴿۱۳) (1)کی سچائی اور ابلیس کے اس قول: وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیۡنَ ﴿۱۷) (2) کی خوشی کی وجہ معلوم ہوجائے۔ کیونکہ اشیاء کی حکمتوں کے متعلق جو مختصر کلام ہم نے بیان کیا ہے انسان کو جب تک اس کا علم نہ ہو اس پر ان آیات کا مفہوم واضح نہیں ہوسکتا۔ شکر کے لئے اس کے علاوہ بھی کئی علوم کا جاننا ضروری ہے جن کا کچھ حصہ بیان کرنے کے لئے کئی زندگیاں درکار ہیں۔
	یہاں مفہوم سے مراد آیت کی تفسیر ہے ورنہ اس کے لغوی معنیٰ تو ہر اس شخص کو معلوم ہیں جو عربی لُغَت کو جانتا ہے، اس سے آیت کے معنیٰ اور تفسیر کا فرق بھی واضح ہوگیا۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	اگر تم کہو کہ اس سارے کلام کا حاصل یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہر شے میں کوئی حکمت ہے اور بندوں کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ترجمۂ کنز الایمان: اور میرے بندوں میں کم ہیں شکروالے۔(پ۲۲، سبا:۱۳)
2… ترجمۂ کنز الایمان:اور(شیطان بولا) تو ان میں اکثر کو شکرگزار نہ پائے گا۔(پ۸،الاعراف:۱۷)