Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
283 - 882
مالک ہوسکتا ہے جبکہ اس کی اپنی جان کا مالک کوئی اور(یعنی باری تعالیٰ) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ساری مخلوق کا مالک اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہے، زمین اس کا دسترخوان ہے، اس نے اپنے بندوں کو اختیار دیا ہے کہ اس دسترخوان سے اپنی حاجت کے مطابق جو چاہیں کھائیں جیسے کوئی بادشاہ اپنے غلاموں کے لئے دسترخوان بچھائے اور ایک غلام سیدھے ہاتھ سے ایک لقمہ اٹھا کر اچھی طرح تھام لے تو اب بعد میں آنے والے غلام کو پہلے کے ہاتھ سے لقمہ چھیننا جائز نہیں اور یہ  اس وجہ سے نہیں کہ پہلا اسے پکڑ لینے سے اس کا مالک ہوگیا کیونکہ یہ شخص اور اس کا ہاتھ تو خود کسی کی ملکیت ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ ہر لقمے سے  تمام غلاموں کی حاجات پوری نہیں کی جاسکتیں تو ترجیح یا کسی خصوصیت کے سبب بعض کو کسی کے لئے خاص کردینے میں ہی عدل ہے اور لقمہ اٹھانا بھی خُصُوصیت ہے جس کے سبب اسے اِنْفِرادِیَّت حاصل ہے تو جسے یہ خصوصیت حاصل نہیں اسے اس کا تقاضا کرنے سے بھی منع کیا جائے گا۔ بندوں کے حق میں اللہ      عَزَّ وَجَلَّ کے معاملے کو بھی اسی پر قیاس کرنا چاہئے۔اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ جو اپنی حاجت سے زائد دنیا کا مال و متاع حاصل اورجمع کرے نیز روکے رکھے جبکہ دیگر لوگوں کو اس کی حاجت ہو تو وہ ظالم ہے اور اس کا شمار اُن لوگوں میں سے ہے جو سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں اور اسے  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے۔ اللہ    عَزَّ وَجَلَّ کے راستے سے مراد اس کی طاعت وفرمانبرداری ہے اور ربّعَزَّ  وَجَلَّ کی فرمانبرداری میں مخلوق کا زادراہ دنیاوی مال ومتاع ہے کیونکہ اسی کے ذریعے لوگوں کی ضرورتیں اور حاجتیں پوری کی جاتی ہیں لیکن اس (یعنی لوگوں کی ضروریات پوری نہ کرنے) پر شرعاً کوئی سزا مقرر نہیں کیونکہ ضروریات مقرر کرنے کے لئے کوئی پیمانہ نہیں اور زمانہ مستقبل کے اعتبار سے فقر و محتاجی کے متعلق لوگوں کی آراء بھی مختلف ہیں نیز زندگی کا کچھ پتا نہیں تو عوام کو لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کا پابند بنانا بچے کو باوقار اور باادب رہنے اور ہرفضول کلام سے بچنے کا حکم دینے کی طرح ہے اور یہ ایسا حکم ہے کہ بچہ کم عَقْل ہونے کی وجہ سے اس پر قادر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے کھیل کُوْد میں مشغول ہونے پر ہم اعتراض نہیں کرتے لیکن ہمارا انہیں یوں چھوڑدینا کھیل کود کے جائز ہونے کی دلیل نہیں۔ اسی طرح عوام کے لئے زکوٰۃ کے علاوہ مال خرچ نہ کرنے اور جمع کرنے کو مباح اس لئے قرار دیا گیا کیونکہ بخل ان کی فطرت میں داخل ہے اسے ہرگز کوئی جَمْعِ مال کے اچھا ہونے پر دلیل نہ بنائے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم میں اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: